آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اٹھارہ ستمبر والی انڈین بولنگ کہاں گئی؟
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
18ستمبر کو دبئی کے اسی گراونڈ میں بھارت اور ہانگ کانگ مدِ مقابل تھے۔ 286 رنز کے تعاقب میں ہانگ کانگ کے اوپنرز جب میدان میں اترے تو سبھی کو گمان تھا کہ یہ میچ ڈیڑھ دو گھنٹے میں ہی نمٹ جائے گا۔
لیکن انڈین بولنگ ایسی مایوس کن ثابت ہوئی کہ پہلے 34اوورز میں کوئی بھی وکٹ نہ لے پائی اور دیکھتے ہی دیکھتے ہانگ کانگ کے اوپنرز نے 174 رنز کی پارٹنرشپ بنا ڈالی۔
حالانکہ یہ وہی بیٹنگ لائن اپ تھی جو اتوار کے میچ میں پاکستانی بولنگ کے سامنے صرف 116 رنز پہ ہی ڈھیر ہو گئی تھی مگر بھارتی بولنگ کے سامنے نہ صرف اوپننگ پارٹنرشپ کا ریکارڈ بنا ڈالا بلکہ پورے پچاس اوورز بھی کھیل گئی۔
مزید پڑھیے
اگر ہانگ کانگ کے خلاف دونوں بولنگ اٹیکس کا موازنہ کیا جائے تو پاکستانی بولنگ انڈیا سے کم از کم دس گنا بہتر رہی۔ لیکن اگر اس مفروضے سے ہانگ کانگ کے میچز کو منہا بھی کر دیا جائے تو بھی یہ کوئی مخفی راز نہیں کہ موجودہ پاکستانی بولنگ اٹیک معیار اور تنوع میں انڈیا سے کہیں آگے ہے۔
یوں تو ہر پاک انڈیا میچ کی کہانی کہیں نہ کہیں پاکستانی بیٹنگ کے بحران پہ ہی آ کے منتج ہوتی ہے مگر اس بار یہ سمجھا جا رہا تھا کہ کوہلی کی عدم موجودگی اور چند سینئیر پلئیرز کے نہ ہوتے پاکستان اس میچ میں واضح فیورٹ رہے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگر شاید یہ اعتماد کا اوورفلو تھا یا توقعات اور تخمینوں کی غلطی کہ ایک ہی دن پہلے جو بولنگ اٹیک دس وکٹیں لینے کے لیے ناکافی تھا، وہ پاکستانی اعصاب پہ اس قدر طاری ہوا کہ 50 اوورز کھیلنا بھی محال ٹھہرا اور بھارت نے دوطرفہ تاریخ کی تیز ترین فتح بھی حاصل کر لی۔
سال بھر پہلے جب پاکستان اور بھارت چیمپئینز ٹرافی کے فائنل میں ٹکرائے تھے تو فخر زمان کا کرئیر صرف تین میچز کے تجربے پہ مشتمل تھا مگر پھر بھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ کل کے مقابلے میں بھی شائقین کسی ایسی ہی تاریخی اننگز کے منتظر تھے۔
فخر زمان عموما کریز پہ ایڈجسٹ ہونے میں اپنا پورا وقت لیتے ہیں مگر جب مقابلہ ایسا ہائی وولٹیج ہو تو جذبات کا اعصاب پہ غالب آ جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔
اگر بھوونیشور کمار اسی لائن اور لینتھ پہ بولنگ کرتے جو انھوں نے گذشتہ رات ہانگ کانگ کے خلاف استعمال کی تھی تو بعید نہیں تھا کہ فخر زمان اور امام الحق بھی کوئی نیا اوپننگ پارٹنرشپ ریکارڈ بنا لیتے مگر بھوونیشور نے لائن اور لینتھ کو بالکل سمپل بنا ڈالا اور پاکستانی اوپنرز کو ’کچھ ہٹ کے‘ کرنے پہ مجبور کیا۔
پاور پلے کے بارے عمومی تصور یہی ہے کہ جس قدر مار دھاڑ کرنا ہو، اسی میں کر لی جانی چاہئے حالانکہ پچھلے دو سال میں بھارتی اوپننگ کا رویہ اس کے بالکل برعکس رہا ہے۔ پاکستانی اوپنرز کا اندازہ ہو گا کہ انہیں پاورپلے میں ہی میچ پہ گرفت مضبوط کرنا ہے وگرنہ پھر موقع نہ ملے گا۔
لیکن مواقع تو بے شمار ہوتے ہیں اگر کوئی رکنے اور انتظار کرنے پہ آمادہ ہو۔ انڈین بولنگ نے ڈسپلن کا ایسا اچھا مظاہرہ کیا کہ فخر زمان اور امام الحق نے خود مواقع پیدا کرنے کا سوچا اور اسی سوچ میں گم پویلین لوٹ گئے۔
شعیب ملک اور بابر اعظم کی پارٹنرشپ نے کچھ ڈھارس بندھائی ہی تھی کہ بہت اچھا گیند بابر اعظم کے ڈیفنس میں سے رستہ بنا کر سٹمپس سے جا ٹکرایا۔ پھر شعیب ملک بھی بن بلائی دعوت کے ہاتھوں رن آوٹ ہو گئے۔
ان دو کے علاوہ سبھی پاکستانی بلے باز اپنے تئیں مثبت کرکٹ کھیلتے اور مواقع پیدا کرتے کرتے ہی آوٹ ہوئے۔ ناقابل فہم بات یہ تھی کہ جب واضح دکھائی دے رہا تھا کہ پچاس اوورز پورے کھیل لینے میں ہی کچھ نہ کچھ بھلائی ہے تب بھی کوئی کریز پہ رکنے کو تیار نہیں تھا۔
میچ کی صورت حال کے اعتبار سے محمد عامر نے عمدہ بیٹنگ کی، اور کوشش بھی کرتے رہے کہ کسی نہ کسی طرح پورے اوورز کھیل لیے جائیں مگر بولنگ میں ان سے جو امیدیں تھیں، وہ ایک بار پھر بر نہ آ سکیں کیونکہ اس وکٹ سے کوئی غیر معمولی مدد بولرز کو ملنا ہی نہیں تھی۔
اس وکٹ پہ واضح برتری بیٹنگ کی ہی ہونا تھی مگر انڈین بولنگ کا ڈسپلن اور پاکستانی بلے بازوں کی جلد بازی نے ساڑھے سات گھنٹے کی کہانی مختصر کر کے پانچ گھنٹے میں ہی بھگتا دی۔
سرفراز نے جب ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا تو پاکستانی بلے باز یہی سوچ کر میدان میں اترے تھے کہ یہ اٹھارہ ستمبر والی انڈین بولنگ ہی ہو گی جس سے نمٹنا ہانگ کانگ ایسے بچوں کا کھیل ثابت ہو گا۔
گو ایک دو چہرے مختلف بھی تھے مگر پھر بھی یہ اٹھارہ ستمبر والی انڈین بولنگ کے یکسر متضاد اٹیک تھا جس کا پاکستان کو سامنا کرنا پڑا۔ اور جواب میں پاکستانی بلے باز صرف یہی سوچتے رہ گئے کہ وہ اٹھارہ ستمبر والی انڈین بولنگ کہاں گئی؟