پاکستان کی ٹیم سوچے کہ بلی سٹین سے کیسے نمٹنا ہے۔۔۔

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

ماضی میں جب کبھی پاکستان نے جنوبی افریقہ یا آسٹریلیا کا دورہ کیا تو ہر بار پاکستانی بیٹنگ پہ سوالیہ نشان کھڑے ہوئے۔ باؤنسی وکٹوں پہ گیند کی چال ڈھال ایشین وکٹوں سے یکسر مختلف ہوتی ہے، سو وہاں کا باؤنس اور سیم ایشین بلے بازوں کے لیے ہمیشہ خلجان کا باعث بنتا ہے۔

لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ زمبابوے کے دورے پہ پاکستانی بیٹنگ کے یوں طوطے اڑ گئے ہوں۔ وجہ صرف یہ نہیں کہ زمبابوے کی ٹیم ہمیشہ ہی بی کیٹیگری میں رہی ہے یا زمبابوے کی بولنگ میں کبھی کوئی دم خم نہیں رہا۔

درحقیقت زمبابوے کی وکٹوں کا مزاج قریب قریب وہی ہے جو ایشین کنڈیشنز کا ہوتا ہے۔ پیر کو کھیلے جانے والے میچ میں بھی کسی پاکستانی بیٹسمین کو کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا اور پاکستان نے ایک بھاری بھر کم ٹوٹل ترتیب دیا۔

یہ بھی پڑھیے

لیکن پیر کو اچانک ایسا کیا ہوا کہ ہرارے کی وکٹ ہی پاکستان کے لیے پرتھ کی وکٹ بن گئی۔ ٹاپ آرڈر بالکل کنفیوز نظر آیا۔ بلے کا باہری کنارہ مدہوش تھا کیا جو گیند بار بار چھو کر وکٹ کیپر کے گلوز میں جاتی رہی۔

پاکستان ٹی ٹونٹی رینکنگ میں نمبرون ٹیم ہے۔ پچھلے آٹھ ٹی ٹونٹی میچ لگاتار جیت چکی ہے لیکن پیر کو اسی نمبر ون ٹیم کی بیٹنگ لائن یکسر منتشر نظر آئی۔ کوئی تو ایسی بنیادی غلطی ہوئی کہ یوں شیرازہ بکھر گیا۔

محمد حفیظ نے اپنے کرئیر کا آغاز بطور اوپنر کیا تھا۔ پھر وہ ون ڈاؤن بھی کھیلنے لگے۔ پھر کہیں کہیں چھٹے ساتویں نمبر پہ بھی کھیلے۔ وہ کس پوزیشن پہ سب سے زیادہ مؤثر تھے اس کا ادراک اگر انھیں نہیں تو کم از کم ٹیم مینیجمنٹ کو تو ہونا چاہیے۔

اس کے باوجود اگر وہ اوپننگ کر رہے ہیں تو یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ زمبابوے کے خلاف میچ میں وہ کافی عرصے بعد اوپننگ کرتے نظر آئے اور حسب خدشات ناکام بھی ہوئے۔ آسٹریلیا کے خلاف پھر وہ اوپننگ کرنے ہی آئے اور ایک بار پھر ناکام ہوئے۔

پاور پلے کے آغاز میں ہی جب یوں ایک دو وکٹیں گر جاتی ہیں تو مڈل آرڈر کے لیے بہت دشواری پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ نئے گیند کو کھیلنا مڈل آرڈر کے مزاج کا حصہ ہی نہیں ہوتا۔ ویراٹ کوہلی دنیا کے نمبرون بیٹسمین ہیں لیکن ابھی بھی سیمنگ کنڈیشنز میں وہ نئے گیند کے سامنے پراعتماد نظر نہیں آتے۔

پیر کے میچ میں پاکستان کی بنیادی غلطی محمد حفیظ سے اوپننگ کروانا تھی۔ 90 کی دہائی کے اواخر میں جب شاہد آفریدی اوپننگ کرتے تھے تب بھی پاکستانی مڈل آرڈر بہت جلدی ایکسپوز ہو جاتا تھا۔ پیر کو بھی ویسا ہی کچھ ہوا۔

بلی سٹین لیک نے جس رفتار کے ساتھ گیند کو باؤنس کیا وہ کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کے لیے متوقع صورت حال نہیں تھی۔ اس کے بعد جس طرح پاکستانی بیٹسمین کھیلے وہ پاکستانی شائقین کے لیے بھی متوقع صورت حال نہیں تھی۔

اگر آسٹریلیا کی ٹیم کے حالیہ سفر کو دیکھا جائے تو جس بری طرح ان کا اعتماد مجروح ہو چکا ہے اس کے بعد نمبر ون ٹیم کے خلاف ایسی کارکردگی سبھی کے لیے چشم کشا ہے اور اگر یہی ٹیمپو برقرار رہا تو پاکستان کی نمبرون رینکنگ یقیناً خطرے میں ہے۔

منگل کا دن پاکستان کے لیے وقفہ ہے۔ پاکستان منگل کو سوچ سکتا ہے کہ اس کا بیٹنگ آرڈر کیا ہونا چاہیے اور بلی سٹین لیک جیسے خطرے سے کیسے نمٹنا ہے۔ یہ نہ ہو کہ ٹورنامنٹ گزر جائے اور پاکستانی بیٹسمین سوچتے ہی رہ جائیں کہ یہ بلی سٹین لیک کون ہے۔