فیفا ورلڈ کپ 2018: روس اور کروشیا کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے

گذشتہ چار فیفا ورلڈ کپس میں میزبان ٹیم کبھی بھی پنلٹی پر نہیں ہاری اور یہی روس میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2018 کے ناک آؤٹ راؤنڈ میں ہوا جب میزبان ٹیم روس نے پنلٹیز پر سپین کو شکست دے کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی۔

روس سپین کو پنلٹی پر شکست دے کر دوسری بار کوارٹر فائنل میں پہنچا ہے اس سے قبل وہ 1966 میں کوارٹر فائنل میں پہنچا تھا۔

2010 فیفا ورلڈ کپ کے چیمپیئن سپین نے ناک آؤٹ راؤنڈ کے میچ میں روس کے خلاف 12 ویں منٹ میں برتری حاصل کی جب روسی کھلاڑی کی ٹانگ سے لگ کر گیند ان کے اپنے گول میں چلی گئی۔

تاہم روس نے جلد ہی اس وقت گول کر کے میچ برابر کر دیا جب اسے ایک کارنر کک کے دوران گیند ہسپانوی کھلاڑی کے ہاتھ پر لگنے کی وجہ سے پنلٹی ملی۔

پہلے ہاف میں روس نے سپین کے گول پر کئی حملے کیے لیکن دوسرے ہاف میں روس نے دفاعی کھیل پیش کیا اور سپین کے یکے بعد دیگرے حملوں کو ناکام بنایا۔

اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ میچ کے دوران سپین کے پاس بال رہنے کی شرح 74 فیصد تھی۔

سپین نے گول کرنے کی 25 کوششیں کیں جن میں سے نو کوششیں ٹارگٹ پر تھی جبکہ روس نے چھ کوششیں کیں جبکہ صرف ایک ٹارگٹ پر تھی۔

مقررہ وقت ختم ہونے پر ایکسٹرا ٹائم دیا گیا جس میں سپین نے دباؤ جاری رکھا لیکن بات پنلٹی کے ذریعے فیصلے پر گئی۔

ایکسٹرا ٹائم ختم ہونے پر روسی شائقین نے خوشیاں منائیں جیسے وہ میچ پہلے ہی جیت چکے ہیں۔

پنلٹی میں روسی گول کیپر سپین کے دو کھلاڑیوں کی ککس کو روکنے میں کامیاب رہے اور اس طرح روس چار تین سے جیت گیا۔

ایکسٹرا ٹائم روس کے لیے پریشان کن زیادہ تھا کیونکہ وہ اس سے قبل 1986 میں ناک آؤٹ راؤنڈ بیلجیئم سے ایکسٹرا ٹائم میں چار تین سے ہارے اور 1970 میں کوارٹر فائنل میں یوروگوائے سے ایک صفر ہارے تھے۔

سپین کے لیے یہ ساتویں بار تھا کہ وہ ورلڈ کپ میں ایکسٹرا ٹائم میں گئے۔ اس سے قبل آخری بار وہ 2010 کے فائنل میں ایکسٹرا ٹائم میں گئے تھے اور انھوں نے ورلڈ کپ اپنے نام کیا تھا۔

کروئشیا بھی کواٹر فائنل میں

اتوار کو ورلڈ کپ 2018 کے پری کوارٹر فائنل کے دوسرے میچ کا فیصلہ بھی پنلٹی شوٹ آؤٹ سے ہی ہوا جس میں کروشیا نے ڈنمارک کو دو کے مقابلے میں تین گول سے شکست دی۔

نیزنی نووگوروڈ میں کھیلے جانے والے میچ میں مقابلہ مقررہ وقت میں ایک ایک گول سے برابر رہا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دونوں گول میچ کے ابتدائی پانچ منٹ میں ہی ہو گئے تھے۔ میچ کے پہلے ہی منٹ میں ڈنمارک کے ماتیاس یورگنسن نے گول اپنی ٹیم کو برتری دلائی جسے چوتھے منٹ میں ماریو ماندژوکیچ نے گول کر ختم کر دیا تھا۔

اس کے بعد بقیہ وقت اور پھر اضافی وقت میں دونوں ٹیمیں مزید کوئی گول کرنے میں ناکام رہیں اور فیصلہ پنلٹیز کے ذریعے ہوا۔