آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
حاجرہ خان: سہولیات نہیں لیکن پاکستانی لڑکیوں میں فٹبال کا جنون ہے
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان میں فٹبال کے کھیل پر چھائی بےیقینی پر مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کھلاڑی بھی سخت مایوسی کا شکار ہیں۔
پاکستان کی صف اول کی خاتون فٹبالر ہاجرہ خان نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ برائے نام مواقع ملنے سے پاکستان کی خواتین فٹبالرز کیسے ترقی کر سکتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ خواتین فٹبالرز کو سال میں صرف ایک قومی چیمپیئن شپ کھیلنے کو ملتی ہے جبکہ دو سال میں ملک سے باہر کھیلنے کا صرف ایک موقع ملتا ہے تو ایسے میں یہ بہتری کی توقع رکھنا درست نہیں۔
’اگر آپ سال میں ایک چیمپیئن شپ کرائیں گے اور دو سال میں ایک بار لڑکیوں کو باہر بھیجیں گے تو مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی ترقی ہو گی بےشک خواتین کو فٹبال کھیلتے ہوئے دس سال ہو جائیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہاجرہ خان کے خیال میں فیفا کی جانب سے پاکستان فٹبال فیڈریشن کو معطل کیے جانے کا زیادہ نقصان مرد کھلاڑیوں کو ہوا ہے۔
’مرد کھلاڑیوں کو زیادہ نقصان ہوا ہے کیونکہ ان کا کھیل زیادہ تھا ان کی لیگز بھی زیادہ ہو رہی تھیں، ان کی چیمپیئن شپ زیادہ کھیلی جا رہی تھیں لیکن ان نوجوان خواتین فٹبالرز کو بھی سخت مایوسی کا سامنا ہے جنھیں کوئی میچ کھیلنے کو نہیں مل رہا ہے۔ ہم سب امید کرتے ہیں کہ پاکستان میں خواتین فٹبال بھی جلد سے جلد دوبارہ شروع ہو گی۔‘
ہاجرہ خان نے پاکستان سپورٹس کے کرتا دھرتاؤں کی حب الوطنی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔
’مجھے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان میں جو لوگ سپورٹس چلارہے ہیں ان میں جذبہ حب الوطنی کی کچھ کمی ہے۔ کھلاڑیوں میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے ہم صرف اس لیے مار کھا رہے ہیں کیونکہ نوجوان کھلاڑیوں کو صحیح سمت نہیں مل رہی ہے۔‘
ہاجرہ خان کا کہنا ہے کہ خواتین فٹبال پر بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔
خواتین کی کوئی لیگ نہیں ہوئی ہے نہ ہی انٹر کلب چیمپیئن شپ ہوئی ہے۔ ملک میں کھیلوں کا ڈھانچہ خواتین کے لیے موافق نہیں ہے۔ سہولیات نہیں ہیں۔ ایسا کوئی پلیٹ فارم نہیں جہاں خواتین کھلاڑی خود کو اجاگر کر سکیں۔ نچلی سطح سے لے کر سینئر ٹیم تک بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔‘
ہاجرہ خان کا کہنا ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان میں نوجوان کھلاڑیوں میں فٹبال کا جنون کی حد تک شوق ہے۔
لڑکیوں میں فٹبال کا شوق بہت بڑھ گیا ہے۔ گذشتہ دنوں چیمپئنز لیگ کے فائنل میں لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں نے بھی دلچسپی لی۔ میسی، رونالڈو اور محمد صلاح خواتین کھلاڑیوں کے رول ماڈل ہیں جن کے میچ وہ باقاعدگی سے دیکھ رہی ہیں۔ لڑکیوں کو پریمیئر لیگ اور لا لیگا کا پتہ ہے انھیں ویمنز فٹبال کی بھی کافی معلومات ہیں۔