لارڈز ٹیسٹ کا تیسرا دن مکمل، پاکستان کی برتری ختم

اس وقت انگلینڈ کے بلے باز جوس بلٹر اور ڈان بیس کریز پر موجود ہیں اور اب تک ان کے درمیان 100 رنز سے زیادہ کی شراکت ہو چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس وقت انگلینڈ کے بلے باز جوس بلٹر اور ڈان بیس کریز پر موجود ہیں اور اب تک ان کے درمیان 100 رنز سے زیادہ کی شراکت ہو چکی ہے۔

لندن میں لارڈز کے تاریخی میدان پر پاکستان کے خلاف سیریز کے پہلے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن کا کھیل مکمل ہونے تک انگلینڈ نے اپنی دوسری اننگز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 235 رنز بنا لیے ہیں اور اسے 56 رنز کی برتری حاصل ہے۔

اس وقت انگلینڈ کے بلے باز جوس بٹلر اور ڈان بیس کریز پر موجود ہیں اور ان کے درمیان 125 رنز کی شراکت ہو چکی ہے۔

سنیچر کو کھیل کے اختتام پر جوس بٹلر نے 66 جبکہ ڈان بیس 55 رنز بنا چکے ہیں۔

پاکستانی گیند بازوں نے انگلینڈ کے ٹاپ آڈر کو تو جم کر کھیلنے نہ دیا اور 110 کے سکور پر ان کی چھ وکٹیں گر چکی تھیں۔

تاہم جوس بٹلر اور ڈان بیس نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے نصف سنچریاں بنائیں اور انگلینڈ کو اس میچ میں واپس آنے کا موقع بھی فراہم کیا ہے۔

انگلینڈ کے آخری آؤٹ ہونے والے کھلاڑی جو روٹ جو 68 رنز بنا کر محمد عباس کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار پائے۔

آؤٹ ہونے کھلاڑیوں میں ایلسٹر کک، 1، سٹونمین 9، جو روٹ 68، ڈیوڈ ملان 12، جانی بیرسٹو 0، بین سٹروک 9 شامل ہیں۔ محمد عامر، محمد عباس اور شاداب خان نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے۔

محمد عامر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمحمد عامر نے ایک اوور میں دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کر میچ کو دلچسپ بنا دیا ہے

میچ کا دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب محمد عامر کے ایک ہی اوور میں ڈیوڈ ملان آؤٹ ہونے والے تیسرے کھلاڑی تھے اور وکٹ کیپر جانی بیرسٹو ایک گیند کھیلنے کے بعد دوسری گیند کا سامنا کرتے ہوئے بولڈ ہو گئے۔

اس سے قبل پاکستان کی پہلی اننگز 363-9 کے سکور پر مکمل ہوئی ہے اور پاکستان کو اننگز کے اختتام پر 179 رنز کی برتری حاصل تھی۔

یاد رہے کہ بابر اعظم کے زخمی ہونے کی وجہ سے پاکستان کے پاس اس میچ میں ایک وکٹ کم ہوگی۔

گذشتہ روز بابر اعظم 68 کے انفرادی سکور پر بین سٹوکس کے ایک باؤنسر سے بچنے کی کوشش میں زخمی ہو کر اپنی بیٹنگ جاری نہ رکھ سکے اور انھیں میدان سے باہر جانا پڑا۔ پاکستانی ٹیم کے فزیوتھیراپسٹ کلف ڈیکن نے بعد میں بتایا کہ 'بدقسمتی سے ایکسرے میں ان کی بائیں کلائی میں فریکچر کی تصدیق ہو گئی۔' بابر اعظم انگلینڈ کے خلاف بقیہ سیریز نہیں کھیل سکیں گے۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبابر اعظم 68 کے انفرادی سکور پر سٹوئرٹ براڈ کے ایک باؤنسر سے بچنے کی کوشش میں زخمی ہو کر اپنی بیٹنگ جاری نہ رکھ سکے

پاکستان کی جانب سے پہلی اننگز میں ٹاپ سکورر بھی بابر ہی رہے تھے۔ ان کے علاوہ پاکستان کے ٹاپ آڈر نے اچھی کارکردگی دیکھائی۔ اظہر علی 50، اسد شفیق 59، اور شاداب خان نے 52 رنز بنائے۔

اسی بارے میں

اس سے قبل ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن کا کھیل شروع ہوا تو انگینڈ ‌کو دوسری کامیابی 87 کے سکور پر ملی جب حارث سہیل مارک ووڈ کی گیند پر 39 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

اسد شفیق نے چھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے اپنی 20 ویں ٹیسٹ نصف سینچری مکمل کی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناسد شفیق نے چھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 59 رنز کی اننگز کھیلی

اظہر علی چھ چوکوں کی مدد سے اپنی 28ویں ٹیسٹ نصف سینچری مکمل کرنے کے بعد 50 رنز پر ہی جیمز اینڈرسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔

اسد شفیق نے چھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 59 رنز کی اننگز کھیلی اور بین سٹوکس کی گیند پر دوسری سلپ میں کیچ آؤٹ ہوئے۔

چائے کی وقفے سے پہلے سرفراز احمد ایک غیرذمہ دارانہ شاٹ کھیلتے ہوئے اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔ سٹوکس کی گیند پر ووڈ نے ان کا کیچ لیا اور انھوں نے 24 رنز بنائے۔

فہیم اشرف کو جیمز اینڈرسن نے بولڈ کیا، انھوں نے 37 رنز بنائے۔

شاداب خان 52 رنز بنا کر بین سٹوکس کی تیسری وکٹ بنے تو اس کے اگلے ہی اوور میں اینڈرسن نے حسن علی کو صفر پر پویلین کی راہ دکھا دی۔

جونی بیئرسٹو نے حارث سہیل کا عمدہ کیچ لیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجونی بیئرسٹو نے حارث سہیل کا عمدہ کیچ لیا

ٹیسٹ میچ کے پہلے روز کھیل کے اختتام تک پاکستان نے ایک وکٹ کے نقصان پر 50 رنز بنائے تھے۔

پاکستان کی جانب سے آؤٹ ہونے والے واحد کھلاڑی اوپنر امام الحق تھے جو چار رن ہی بنا سکے اور سٹوئرٹ براڈ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے۔

میچ کے پہلے دن پاکستان نے میزبان ٹیم کے خلاف عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور انگلینڈ کی مضبوط بیٹنگ لائن کو صرف 184 رنز پر پویلین بھیج دیا۔

اظہر

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناظہر علی چھ چوکوں کی مدد سے اپنی نصف سینچری مکمل کرنے کے بعد جیمز اینڈرسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے

پاکستان کی جانب سے سب سے کامیاب بولر محمد عباس اور حسن علی رہے جنھوں نے چار، چار وکٹیں لیں جبکہ ان کے علاوہ محمد عامر اور فہیم اشرف نے ایک ایک وکٹ لی۔

پاکستانی فیلڈروں نے کئی عمدہ کیچ بھی پکڑے، جن میں اسد شفیق کا دوسری سلپ اور محمد عامر کا مڈ آن پر پکڑنے جانے والے کیچ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔