پی ایس ایل تھری میں ابھرنے والے نئے ستارے کون ہیں؟

    • مصنف, عابد حسین
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

پاکستان نے اگلے ہفتے کراچی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے جانے والے تین بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی میچز کے لیے ٹیم کا اعلان کر دیا ہے جس میں تیسرے پاکستان سپر لیگ میں عمدہ کارکردگی دکھانے والے چند نئے کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے۔

فاتح ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ سے تعلق رکھنے والے، بائیں ہاتھ سے بیٹنگ اور دائیں ہاتھ سے میڈیم فاسٹ بولنگ کرنے والے آل راؤنڈر حسین طلعت اور مڈل آرڈر میں کھیلنے والے جارحانہ بلے باز آصف علی کے علاوہ لاہور قلندرز کے بائیں ہاتھ سے فاسٹ بولنگ کرنے والے طویل قامت شاہین شاہ آفریدی کو ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔

ان تین کھلاڑیوں کی ٹیم میں شمولیت نے ایک بار پر اس رجحان کی جانب اشارہ کیا ہے کہ پی ایس ایل میں اچھی کارکردگی دکھانا قومی ٹیم میں شامل ہونے کے لیے بہترین راستہ ہے۔

بی بی سی نے پی ایس ایل تھری میں شاندار کھیل پیش کرنے والے چند نئے ناموں کا جائزہ لیا۔

حسین طلعت

اسلام آباد یونائیٹڈ سے تعلق رکھنے والے حسین طلعت نے اپنی ٹیم کی جانب سے تمام 12 میچوں میں شرکت کی اور 33.50 کی اوسط اور 131 کے سٹرائیک ریٹ سے 201 رنز بنائے اور ساتھ ساتھ اپنی میڈیم فاسٹ بولنگ سے چار وکٹیں بھی حاصل کیں۔

حسین طلعت کی کارکردگی کی خاص بات تھی کہ انھوں نے دباؤ میں بھی عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور اننگز کے آخری مرحلوں میں جارحانہ انداز بھی اپنایا۔

ان کی آل راؤنڈ کارکردگی اور کریز پرسکون مزاج نے کئی لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا اور امید تھی کہ پی ایس ایل کے اختتام پر وہ قومی ٹیم میں جلد جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور ایسا ہی ہوا۔

آصف علی

حسین طلعت کی طرح اپنا تیسرا پی ایس ایل کھیلنے والے آصف علی کی جارحانہ بیٹنگ نے تمام شائقین کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے تیسرے سب سے زیادہ رن بنانے والے آصف علی نے 12 میچوں میں اپنے 213 رنز 169 کے سٹرائیک ریٹ کی مدد سے بنائے ہیں جس میں 13 چوکے اور 16 بلند و بالا چھکے شامل ہیں۔

آصف علی نے پی ایس ایل میں متعدد مواقعوں پر اپنی ٹیم کو اننگز کے آخری لمحات میں برتری دلائی لیکن ان کی سب سے یادگار اننگز پی ایس ایل کے فائنل میں دیکھنے میں آئی جب انھوں نے لڑکھڑاتی ہوئی اسلام آباد یونائیٹڈ کو فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا اور حسن علی کو لگاتار تین گیندوں پر تین زوردار چھکے لگا دیے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے مینیجر حسن چیمہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم نے حسین طلعت اور آصف علی کو ڈومیسٹک کرکٹ میں جانچا تھا اور اندازہ تھا کہ یہ دونوں فاسٹ اور سپن بولنگ میں یکساں طور پر مہارت رکھتے ہیں۔

'ان دونوں کھلاڑیوں میں اعتماد اور گیم پلاننگ کا فقدان تھا جس کے لیے ہم نے انھیں تین سال تک اپنی ٹیم میں رکھ کر وہ حوصلہ اور تربیت دی جس کا صلہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح سے ان دونوں نے مشکل مرحلے میں ٹیم کے لیے عمدہ کھیل پیش کیا۔'

شاہین شاہ آفریدی

نوجوان فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی گذشتہ سال کی شہرت اس وقت سامنے آئی جب انھوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنے پہلے ہی میچ میں اننگز میں آٹھ کھلاڑیوں کو تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے آؤٹ کیا۔

اس کے بعد انڈر 19 ورلڈ کپ میں بھی انھوں نے اچھی بولنگ کی جس کے بعد کئی لوگوں کی نظریں ان کی پی ایس ایل میں بولنگ کارکردگی پر تھی شاہین شاہ آفریدی نے انھیں مایوس نہیں کیا۔

سات میچوں میں سات وکٹیں حاصل کرنے والے شاہین نے تمام ماہرین کو اپنی تیز یارکروں سے مداح بنا لیا جن میں سب سے اہم مداح قومی ٹیم کے کوچ مکی آرتھر تھے جنھوں نے انھیں مستقبل کا مچل سٹارک قرار دیا۔

آغا سلمان

لاہور قلندرز تیسری بار بھی پی ایس ایل میں آخری نمبر پر آئی لیکن گذشتہ سال کی طرح ان کی ٹیم میں ایک ایسا بلے باز ابھر کر سامنے آیا جسے مستقبل میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

آغا سلمان نے تمام آٹھ میچوں میں شرکت کی اور 166 رنز کے ساتھ اپنی ٹیم کے چوتھے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز رہے۔

انھوں نے صرف ایک نصف سنچری بنائی لیکن اوپر کے نمبر پر کھیلتے ہوئے انھوں نے کئی دلکش سٹروکس کھیلے اور ماہرین کو اپنی جانب متوجہ کیا۔

ابتسام شیخ

عینک لگا کر بولنگ کرنے والے 19 سالہ لیگ سپنر ابتسام شیخ نے پی ایس ایل میں صرف چار میچ کھیل سکے لیکن انھوں نے 21 رنز کی اوسط سے پانچ وکٹیں حاصل کیں اور دیکھنے والوں کو کافی متاثر کیا۔

گذشتہ سال شاداب خان کی کامیابی کے بعد ابتسام شیخ کا ابھر کر سامنے آنا قومی ٹیم کے لیے کافی خوش آئند بات ہے کہ انھیں لیگ سپن کے شعبے میں یکے بعد دیگرے اچھے بولرز مل رہے ہیں۔

عمید آصف

پشاور زلمی کے طویل قامت بولر عمید آصف شاید عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں ان کی ٹیم میں شمولیت کے امکان شاید کم ہیں لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے پی ایس ایل تھری میں انتہائی متاثرکن بولنگ کا مظاہرہ کیا ہے۔

حسن علی کی غیر موجودگی میں پشاور زلمی نے 33 سالہ عمید کو ٹیم میں شامل کیا اور انھوں نے ایسی شاندار کارکردگی دکھائی کہ اس کے بعد انھیں ٹورنامنٹ کے تمام میچوں میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔

12 میچوں میں 13 وکٹیں حاصل کرنے والے عمید نے اپنی لائن و لینتھ اور اچھال والی گیندوں سے تمام بلے بازوں کو پریشان کیا اور ان کا اکانومی ریٹ سات رنز فی اوور رہا۔ اس کے علاوہ انھیں بیٹنگ میں زیادہ مواقع نہیں ملے لیکن اس کے باوجود ان کے تین چھکوں نے یہ ظاہر کیا کہ عمید آصف میں جارحانہ بلے بازی کی صلاحیت موجود ہے۔

حسن خان

پاکستان کی انڈر 19 ٹیم کے کپتان حسن علی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے اپنا دوسرا پی ایس ایل کھیل رہے تھے اور ایک بار پھر انھوں نے اچھی کارکردگی دکھائی جس سے مستقبل میں قومی ٹیم میں ان کی شمولیت کے امکانات کو کافی تقویت ملی ہے۔

بائیں ہاتھ کے سپنر اور گذشتہ سال نو وکٹیں لینے والے حسن نے گو کہ اس سال چھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا لیکن ان کا اکانومی ریٹ صرف 6.67 رہا جو کہ ٹی ٹوئنٹی میں حیران کن حد تک کم ہے۔

بیٹنگ میں بھی انھوں نے ملتان کے خلاف میچ میں آخری اوور میں چھکا لگا کر اپنی ٹیم کو جیت سے ہمکنار کرایا اور اس سے ثابت کیا کہ وہ دباؤ میں اچھا کھیل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ اپریلکی پہلی، دوسری اور تیسری تاریخ کو کھیلے جانے والے تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کے لیے پاکستان کی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہوگی۔

سرفراز احمد (کپتان)، احمد شہزاد، فخر زمان، بابر اعظم، شعیب ملک، آصف علی، حسین طلعت، فہیم اشرف، محمد نواز، شاداب خان، محمد عامر، حسن علی، راحت علی، عثمان خان شنواری، شاہین شاہ آفریدی۔