ایشز: آسٹریلیا انگلینڈ کے خلاف آٹھ میں سے سات سیریز میں فاتح

ٹیم آسٹریلیا

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنچار صفر سے ایشز جیتنے کے بعد ٹیم آسٹریلیا

آسٹریلیا نے انگلینڈ کو ایشز کے پانچویں اور آخری ٹیسٹ میچ میں ایک اننگز اور 123 رنز سے شکست دے کر سیریز چار صفر سے جیت لی ہے۔

سڈنی میں کھیلے جانے والے سیریز کے آخری میچ کے پانچویں دن آسٹریلیا کو جیت کے لیے چھ وکٹ درکار تھے جو اس نے بہ آسانی حاصل کر لیے۔

انگلینڈ کے کپتان جو روٹ سڈنی کی گرمی میں بدن میں پانی کی کمی اور پیٹ میں گیس کی شکایت کی وجہ سے ہسپتال میں رہے۔ انھوں نے ایک گھنٹے کی تاخیر سے اپنی اننگز شروع تو کی لیکن لنچ کے بعد اسے جاری نہ رکھ سکے اور 58 کے سکور پر ریٹائرڈ آؤٹ ہو گئے اور ان کی پوری ٹیم 180 رنز پر پولین لوٹ گئی۔

آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگز میں عثمان خواجہ (171)، شوان مارش (156) اور میچل مارش (101) کی سنچریوں کی بدولت سات وکٹوں کے نقصان پر 649 رنز بناکر اننگز ڈیکلیئر کر دی تھی۔

انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا اور اپنی پہلی اننگز میں جو روٹ اور ڈیوڈ ملان کی نصف سنچریوں کی بدولت 346 رنز بنائے تھے۔ آسٹریلیا کے پیٹ کمنز نے دونوں اننگز میں چار چار وکٹیں حاصل کیں اور انھیں مین آف دا میچ قرار دیا گيا۔

جو روٹ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنانگلینڈ کے کپتان گرمی اور پیٹ کی شکایت کے سبب لنچ کے بعد کھیل جاری نہ رکھ سکے

سٹون سمتھ کو سیریز میں بہترین کارکردگی کے لیے مین آف دا سیریز قرار دیا گیا۔ انھوں نے تین سنچریوں کے ساتھ سیریز میں 687 رنز بنائے۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا نے اپنے وطن میں کھیلی جانے والی گذشتہ آٹھ ایشز سیریز میں سے سات میں کامیابی حاصل کی ہے اور انھوں نے انگلینڈ کے خلاف اپنے ملک میں کھیلے جانے والے 20 میں سے 15 میں کامیابی حاصل کی ہے۔

  • پہلا ٹیسٹ، برسبین: آسٹریلیا نے دس وکٹوں سے جیت حاصل کی
  • دوسرا ٹیسٹ، ایڈیلیڈ: آسٹریلیا نے 120 رنز سے جیت حاصل کی
  • تیسرا ٹیسٹ، پرتھ: آسٹریلیا نے ایک اننگز اور 41 رنز سے جیت حاصل کی
  • چوتھا ٹیسٹ، میلبرن: برابری پر ختم ہوا
  • پانچواں ٹیسٹ، سڈنی: آسٹریلیا نے ایک اننگز اور 123 رنز سے جیت حاصل کی۔

انگلینڈ کے لیے یہ سیریز گراؤنڈ میں اور اس کے باہر بھی اچھی نہیں رہی۔ آل راؤنڈر بین سٹوک ستمبر میں برسٹل نائٹ کلب کے باہر جھگڑے کی وجہ سے حراست میں لیے گیے اور اس کے بعد انھوں نے انٹرنیشنل کرکٹ میں شرکت نہیں کی۔

پیٹ کمنز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپیٹ کمنز کو مین آف دا میچ قرار دیا گیا

جب ٹیم آسٹریلیا آئی تو وکٹ کیپر بیئرسٹو پر آسٹریلوی اوپنر کیمرن بینکروفٹ کو سر سے ٹکر مارنے کا الزام لگا جبکہ لائنز کے بیٹسمین بین ڈکیٹ نے اینڈرسن پر شراب انڈیل دی۔ یہ دونوں واقعات پرتھ میں اکھٹے پیش آئے۔

چار صفر سے سیریز جیتنے پر آسٹریلیا کے کپتان سٹون سمتھ نے کہا: 'یہ انتہائی اطمینان بخش رہا۔ یہ دو مہینے بہت اچھے رہے۔ ہم نے پس منظر میں اس کے لیے بہت محنت کی، ہمارے پاس صحیح ٹیم تھی اور کرکٹ کا گیم جیتنے کے ہم جو کر سکتے تھے ہم نے کیا۔'

جو روٹ کی جگہ جیمز اینڈرسن نے میڈیا سے بات کی۔ انھوں نے کہا: 'آسٹریلیا نے ہم سے بہتر کھیل پیش کیا۔ ان کے کھیل سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ان کے بیٹسمین نے صبر کا مظاہرہ کیا اور اپنے ہنر کا استعمال کیا۔'

آسٹریلیا پہلی ٹیم بن گئی ہے جس کے صرف چار بولروں نے کسی پانچ میچ کی سیریز میں تمام وکٹیں حاصل کیں جبکہ انگلینڈ سنہ 2009 کے بعد کسی بھی میچ میں 20 وکٹیں لینے سے قاصر رہا۔

سنہ 1994 اور 1995 کے بعد یہ پہلی سیریز ہے جس میں سارے میچ پانچویں دن تک گئے۔