آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افریقن ٹی ٹوئنٹی: مالک پیسے دیے بغیر غائب، پاکستانی کرکٹرز کی وطن واپسی
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
یوگینڈا میں ہونے والی ٹی ٹوئنٹی لیگ اس کے مالک کی جانب سے عدم ادائیگیوں کے سبب چار میچز کے بعد ہی ختم کرنی پڑ گئی۔
اس لیگ میں شرکت کرنے والے 22 پاکستانی کرکٹرز جمعرات کی شب وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔
ان کرکٹرز میں آف سپنر سعید اجمل بھی شامل ہیں جنہوں نے حال ہی میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کااعلان کیا ہے۔
سعید اجمل نے یوگینڈا کے دارالحکومت کمپالا سے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس لیگ کا مالک بھارتی نژاد آسٹریلوی تھا جبکہ اس لیگ کے سپانسرز میں بھارتی اور یوگینڈا کے مقامی لوگ بھی شامل تھے تاہم لیگ کے چار میچز کے بعد ہی مالک غائب ہو گیا اور یوں یہ لیگ وقت سے پہلے ہی ختم کرنی پڑ گئی۔
سعید اجمل کا کہنا ہے کہ یوگینڈا کی کرکٹ فیڈریشن اس لیگ کے ذریعے اپنے ملک میں کرکٹ کو فروغ دینا چاہتی تھی اور یہ آئی سی سی سے منظور شدہ ایونٹ تھا۔
سعید اجمل نے بتایا کہ پاکستانی کرکٹرز جمعرات کی شب وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔
وطن واپس آنے والے دیگر قابل ذکر کرکٹرز میں یاسر حمید۔ مختار احمد اور ہمایوں فرحت شامل ہیں۔
کرکٹ کے بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے اس لیگ کی منظوری کے بعد ہی پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے کھلاڑیوں کو این او سی جاری کیے تھے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ اس لیگ میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں نے اپنے ایجنٹس کے ذریعے معاہدے کیے تھے۔
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ اس لیگ میں شرکت کرنے والے کرنے والے کرکٹرز کو لیگ شروع ہونے سے پہلے 50 فیصد ادائیگی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔
اس لیگ کی کمنٹری کے لیے سابق ٹیسٹ کپتان عامر سہیل بھی یوگینڈا میں موجود ہیں۔
غور طلب بات یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں ٹی ٹوئنٹی لیگس بڑی تعداد میں سامنے آ چکی ہیں۔
یہ تمام لیگس ان کے کرکٹ بورڈ کی نگرانی میں ہوتی ہیں جن میں آئی پی ایل، پاکستان سپر لیگ، بگ بیش، کیریبئن لیگ، بنگلہ دیشی لیگ اور انگلینڈ میں ہونے والی ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ قابل ذکر ہیں۔
گذشتہ دنوں امارات کرکٹ بورڈ کے تحت شارجہ میں پہلی ٹی ٹین لیگ منعقد ہوئی تھی جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے کرکٹرز کو شرکت کے اجازت دینے کے معاملے میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا حالانکہ یہ لیگ بھی آئی سی سی سے منظور شدہ تھی۔