آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’مشکوک بولنگ ایکشن سے متعلق آئی سی سی کا قانون صرف پاکستان کے لیے ہے‘
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے آف سپنر سعید اجمل کو اس بات کا بہت دکھ ہے کہ کرکٹ بورڈ کا کوئی بھی سرکردہ افسر ان کے کرکٹ سے الوداع کہتے وقت موجود نہ تھا جس سے شاید یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے کھلاڑیوں کو کتنی عزت دیتا ہے۔
یاد رہے کہ سعید اجمل نے بدھ کو قومی ٹی ٹوئنٹی کا سیمی فائنل کھیلنے کے بعد کرکٹ کو خیرباد کہنے کا اعلان کیا تھا۔
بین الاقوامی کرکٹ کے تینوں فارمیٹس میں 447 وکٹیں حاصل کرنے والے سعید اجمل نے جمعرات کو بی بی سی اردو کو دیے گئے تفصیلی انٹرویو میں کہا کہ وہ اپنے کریئر سے مطمئن ہیں کیونکہ انھیں خوشی ہے کہ ان کی کارکردگی ملک کے کام آئی۔
یہ بھی پڑھیے
’میں نے بہت کم عرصے میں جو اعزازات حاصل کیے وہ کوئی دوسرا کرکٹر 20 سال کھیل کر حاصل کرتا لیکن مجھے اس بات پر ہمیشہ دکھ رہے گا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا کوئی بھی اعلیٰ افسر مجھے الوداع کہنے کے لیے موجود نہ تھا۔ چیئرمین سیٹھی صاحب نے بھی مجھے جو پیغام بھیجا وہ صرف ٹویٹ پر مبنی تھا کسی نے فون کرنے کی زحمت ہی نہیں کی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سعید اجمل نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ہر کسی کے ساتھ یہی سلوک روا رکھتا ہے تو وہ کیا شکوہ کریں؟
انھوں نے کہا کہ مشکوک بولنگ ایکشن سے متعلق آئی سی سی کا قانون صرف پاکستان کے لیے ہے۔ وہ بنگلہ دیش ویسٹ انڈیز اور انڈیا کے کئی ایسے بولرز کے نام انگلیوں پرگنوا سکتے ہیں جو 15 ڈگری سے زیادہ بولنگ کرتے ہیں لیکن آئی سی سی نے کبھی انھیں رپورٹ نہیں کیا۔
سعید اجمل نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے کرکٹ بورڈ کو آئی سی سی کی ضرورت ہے اسی لیے وہ خاموش بیٹھا ہے لیکن اگر وہ اسی طرح آنکھیں بند اور کان میں روئی ڈال کر بیٹھا رہا تو پاکستانی بولرز اسی طرح مشکوک بولنگ ایکشن کے قانون کی زد میں آتے رہیں گے کیونکہ یہ قانون جس کی لاٹھی اسی کی بھینس کے مترادف ہے۔
پاکستان کے آف سپنر نے یہ ماننے سے انکار کیا کہ کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے وہ اپنے بولنگ ایکشن کے سبب سب کی نظروں میں آ گئے تھے اور مائیکل وان اور سٹورٹ براڈ کی ٹویٹس نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ جہاں تک مائیکل وان اور سٹورٹ براڈ کی ٹویٹس کا تعلق ہے تو انھیں یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ کرکٹر ہوتے ہوئے ایک کھلاڑی کےخلاف اس طرح کی طنزیہ بات کہتے وہ چاہتے تو ان ٹویٹس کا جواب دے سکتے تھے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔
سعید اجمل نے کہا کہ انھوں نے اپنے کریئر میں ہر بڑے کرکٹر کو آؤٹ کیا ان میں انگلینڈ کے پیٹرسن ایسے بیٹسمین تھے جو ان کے ہاتھوں آؤٹ ہونے پر خود پر غصہ ہوتے تھے کہ وہ سعید اجمل کے ہاتھوں کیوں آؤٹ ہوئے؟
ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ برائن لارا کے خلاف کھیلتے تو وہ ان کی سب سے یادگار وکٹ ہوتی کیونکہ برائن لارا ان کے پسندیدہ ترین بیٹسمین تھے اور وہ سپن بولنگ کو بہت اچھا کھیلتے تھے۔