کرس گیل ابھی باقی ہے

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

ہر چار ماہ بعد جب شائقین کو گمان سا ہونے لگتا ہے کہ کرس گیل کی کرکٹ انجام کے قریب ہے، اچانک کہیں سے کوئی خبر سی امڈ آتی ہے کہ فلاں لیگ میں فلاں کو مار مار بے حال کر دیا یا فلاں کے منہ سے فتح چھین لی یا فلاں کے خلاف کوئی تیز ترین ففٹی، سنچری جڑ دی۔

اس وقت کرس گیل 39 واں سال جی رہے ہیں۔ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں دو ٹرپل سینچریاں بنا چکے ہیں، ون ڈے میں دس ہزار رنز کے قریب ہیں، ٹیسٹ میں سات ہزار سے زیادہ رنز بنا چکے ہیں۔ وہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں 10 ہزار رنز بنانے والے پہلے کھلاڑی ہیں اور ان کا بلا ابھی بھی چپ رہنا گوارہ نہیں کرتا۔

گیل کے بارے میں مزید پڑھیے

کرس گیل کی تکنیک کو دیکھیں تو کوئی ایسی عجیب خاصیت نظر نہیں آتی جو ایسے ریکارڈز کی متقاضی ہو۔ سٹائل میں بھی کوئی ایسا رومانس نہیں ہے کہ ایک شاٹ پہ دل جھوم اٹھیں۔ لیکن پھر بھی جب وہ کریز پر کھڑے ہوتے ہیں تو گراونڈ میں ایک پراسرار سا تجسس چھا جاتا ہے. راہ چلتے کسی کو ٹی وی پہ ایک جھلک نظر آ جائے تو قدم رک جاتے ہیں۔

ہر تیسرے روز وہ کہیں نہ کہیں کسی لیگ میں کھیل رہے ہوتے ہیں۔ فارم کیسی بھی ہو، انہونی کا امکان سا ہمیشہ ہی رہتا ہے۔

گیل نے جس انداز کی کرکٹ کھیلی ہے، وہ کرکٹ کی مروجہ عظمت سے بغاوت ہے۔ کرکٹ کی قدر کرنے والے اس کھیل کی شرافت سے محبت کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک عظیم وہ ہے جو کھیل کی عزت کرتا ہے۔

بیٹسمین وہی عظیم ہے جو بولر کو عزت بھی دیتا ہے اور نتائج بھی پیدا کرتا ہے۔ اس کلچر میں زبانی جگل بندی کو باعث فخر نہیں، بلکہ معیوب جانا جاتا ہے۔ اس کلچر کے ہیروز راہول ڈریوڈ جیسے ہیں۔

لیکن کرس گیل اس مسلمہ کلچر کے قائل نہیں ہیں۔ وہ اپنی طرح کی کرکٹ کھیلتے ہیں۔

ان کے بارے کون کیا کہتا ہے، اس سے انہیں غرض نہیں ہوتی۔ کریز پر ان کی موجودگی کا احساس ہی اتنا جاندار ہوتا ہے کہ بڑے سے بڑے بولر کو چُوکتے دیر نہیں لگتی۔

جب ان کا بلا چلنے لگتا ہے تو کوئی کپتان، کوئی سٹریٹجی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ کیونکہ سٹریٹجی عقلی دلیل کی پیداوار ہوتی ہے اور گیل کا کسی دلیل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جس وقت وہ مخالف ٹیم کا بھرکس نکال رہے ہوتے ہیں، ان کا دھیان تماشائیوں کی تالیوں کی طرف نہیں ہوتا۔ وہ صرف یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ اگلی گیند کو کیسے باؤنڈری کے پار پھینکنا ہے۔

ہر پاپولر کلچر میں عہد در عہد تغیر آتا ہے۔ ہر نئی نسل پرانے کلچر سے بغاوت کرتی ہے۔ کرکٹ کلچر بھی ٹی ٹوئنٹی دور کی بغاوت سے گزر رہا ہے۔ اس عہد کا علم اٹھانے والے اور بھی ہیں لیکن کرس گیل نے صرف اعتراض ہی نہیں کیا، اپنے تجویز کردہ کلچر سے عظمت بھی پیدا کر کے دکھائی ہے۔

ٹی ٹوئنٹی دور کی تاریخ کو اگر ایک نام میں سمیٹا جائے تو وہ نام کرس گیل ہے۔ گیل کا امتیاز صرف یہی نہیں کہ انھوں نے اپنے مجوزہ کلچر کو کامیاب کر کے دکھایا ہے، بلکہ اس سے پہلے رائج کلچر میں بھی کامیابی کے چھکے لگائے۔