ہتک عزت کے کیس میں کرس گیل کی جیت

آسٹریلوی عدالت نے کرس گیل پر آسٹریلوی پبلشر کی جانب سے خاتون مساج تھیرپسٹ کے سامنے خود کو برہنہ کرنے کے الزام کو غلط قرار دیا ہے۔

ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی کرس گیل پر فیئر فیکس میڈیا نے ایک آرٹیکل میں یہ الزام لگائے تھے۔

مساج تھیرپسٹ لیانے رسل نے سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ سنہ 2015 میں سڈنی میں کرس گیل نے خود کو ’برہنہ کیا‘۔

یہ بھی پڑھیے

تاہم گیل نے اپنی صفائی میں کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا۔

ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ گیل کمپنی سے کتنے ہرجانے کا مطالبہ کریں گے۔

سڈنی کی کنگز سٹریٹ کورٹ کمپلیکس کے باہر گیل نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اچھا آدمی ہوں، میں قصوروار نہیں ہوں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں خوش ہوں کہ لوگوں کو یہ جاننے کا موقع ملا کہ اصل میں کیا ہوا تھا۔‘

فیئر فیکس کے وکیل پیٹر بارٹلیٹ کا کہنا ہے کہ کمپنی کو اس پر بہت سا پیسہ دینا ہوگا یا پھر وہ اپیل کی جانب جا سکتے ہیں۔

مِس رسل نے الزام لگایا تھا کہ گیل نے ڈریسنگ روم میں ان کے سامنے خود کو برہنہ کیا تھا۔

گیل کے ساتھی کرکٹر ڈوین سمتھ نے جو کہ اس وقت ڈریسنگ روم میں موجود تھے اس واقعے کے بارے میں گیل کے بیان کی حمایت کی۔

گیل کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ فیئر فیکس کے صحافی کرکٹر کو ’تباہ‘ کرنا چاہا تھا۔

اب عدالت منگل کو ہرجانے کے معاملے کو دیکھے گی۔

38 سالہ گیل کا شمار دنیا کے معروف ترین کرکٹرز میں ہوتا ہے اور رواں برس اگست میں انھوں نے ٹی 20 میچوں میں دس ہزار رنز مکمل کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔