’اب سعید اجمل اپنی اکیڈمی میں پوری توجہ وٹا بولر بنانے کو دے سکیں گے‘

سعید اجمل

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنسعید اجمل نے انٹرنیشنل کرکٹ میں 35 ٹیسٹ میچوں میں 178 وکٹیں حاصل کیں
    • مصنف, رضا ہمدانی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے مایہ ناز سپنر سعید اجمل نے بدھ کو کرکٹ کو خیر باد کہا اور اپنا آخری میچ راولپنڈی میں نیشنل ٹی 20 کے سیمی فائنل میں فیصل آباد کی نمائندگی کرتے ہوئے لاہور وائٹس کے خلاف کھیلا۔

اس میچ میں فیصل آباد کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اپنے آخری میچ میں بھی انھوں نے اپنا جادو دکھایا اور چار اوورز میں محض 13 رننز کے عوض اہم وکٹ حاصل کی۔

مزید پڑھیے

میچ کے آخر میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے لائن بنا کر معروف سپنر کو خراج تحسین پیش کیا۔

سعید اجمل کی ریٹائرمنٹ پر سوشل میڈیا پر بھی ان کی تعریفیں کی جا رہی ہیں اور سعید اجمل ٹرینڈ کر رہا ہے۔

سعید اجمل نے انٹرنیشنل کرکٹ میں 35 ٹیسٹ میچوں میں 178 وکٹیں حاصل کیں۔ ان 35 میں سے 12 ٹیسٹ میچز وہ ہیں جو پاکستان نے جیتے جن میں سعید اجمل کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد 80 رہی۔ اس کے علاوہ انھوں نے 113 ایک روزہ میچوں میں 184 وکٹیں حاصل کیں جبکہ 64 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں 85 وکٹیں حاصل کیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

جہاں ایک طرف پاکستانی سعید اجمل کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں وہیں کرکٹ پر لکھنے والے آسٹریلین ایڈیلیڈ ڈینس اوول نے ایک سوال کیا: ’کیا ہمیں سعید اجمل کے کریئر کا جشن منانا چاہیے جبکہ وہ 40 ڈگری کے خم کے ساتھ بولنگ کرواتے تھے؟ اتنی زیادہ غیر قانونی وکٹیں‘۔

بس اس سوال کے بعد ایک بحث چھڑ گئی۔

ایک صارف وقاص احمد نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ’تو کیا ہمیں وارن کی بھی تعریف نہیں کرنی چاہیے کیونکہ وہ بھی منشیات کے تنازع میں رہے ہیں؟ یہ تو بازو میں خم ہونے سے کہیں زیادہ سنگین جرم ہے‘۔

سعید اجمل

،تصویر کا ذریعہAFP

وقاص کے جواب کے ساتھ ہی ایک اور صارف نے جواب میں لکھا ’تو پھر مرلی دھرن بھی؟‘

لیکن اس سوال کے جواب میں ’ایک عدد نان‘ کے نام سے ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا ’یا ہمیں ان کی حاضر دماغی کا جشن منانا چاہیے کہ انھوں نے یہ تمام غیر قانونی وکٹیں آئی سی سی سے بچ کر حاصل کیں‘۔

لیکن بہت سے لوگوں نے کہا کہ غیر قانونی بولنگ ایکشن والے کسی بھی بولر کو کھیلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

عاصم حسین خان نے اس سوال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ’سعید اجمل، مرلی، حفیظ، بھجی سب ایک ہی کیٹیگری میں ہیں۔ کسی بھی ’چکر‘ کو بولنگ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے‘۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

اویس رحمان نے ٹویٹ کرتے ہوئے سعید اجمل پر تنقید کی اور کہا کہ اب سعید اجمل اپنی اکیڈمی میں پوری توجہ ’وٹا بولر‘ بنانے کو دے سکیں گے۔

حنا بتول نے لکھا کہ ’یہ چکنگ تنازع فضول ہے جس نے کریئر (سعید اجمل کا) تباہ کر دیا جبکہ مرلی، ملنگا اور ایشون سے آئی سی سی کو کوئی مسئلہ نہیں ہے‘۔

تاہم ان کو جلد ہی ایک اور صارف نے درست کرتے ہوئے لکھا کہ ’ملنگا نے کبھی چکنگ نہیں کی‘۔

لیکن جہاں پاکستانی کرکٹر کی بات ہو اور اس بحث میں انڈین شامل نہ ہوں ایسا تو ممکن ہی نہیں۔

انڈین ٹرول کرکٹ نامی ٹوئٹر ہینڈل نے ایک تصویر شیئر کی:

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3