آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’دھونی انڈیا کو ہر میچ نہیں جتوا سکتے‘
انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی اور کوچ روی شاستری نے مہندر سنگھ دھونی کی بیٹنگ کے بارے میں پوچھے گئے سوالات پر ہمیشہ ان کا دفاع کیا ہے۔
روی شاستری نے دھونی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سابق کپتان انڈیا کو ہر میچ نہیں جتوا سکتے۔
ٹیم کے کپتان ورات کوہلی نے کہا کہ ’اگر میں تین بار ناکام ہوں تو لوگ مجھ پر انگلی نہیں اٹھائیں گے کیونکہ میں 35 سال کا نہیں ہوں‘۔
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے دھونی کے بارے میں کہا کہ ’وہ مکمل طور پر فٹ ہیں اور تمام فٹنس ٹیسٹ سے گزر رہے ہیں، ہر طرح سے ٹیم میں حصہ لے رہے ہیں۔ اگر آپ آسٹریلیا اور سری لنکا کے ساتھ سیریز دیکھیں تو ان کی کارکردگی اچھی تھی اور اس دوران انھیں بیٹنگ کا موقع نہیں ملا۔‘
دھونی کا موازنہ ہاردک پانڈیا سے
کوہلی نے ایم ایس دھونی کا موازنہ ہاردک پانڈیا سے کرتے ہوئے کہا ’کانپور میچ میں، دھونی کو بیٹنگ کرنے کا موقع نہیں ملا، آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جس مقام پر دھونی ہیں اس پر ہاردک پانڈیا بھی پہنچ کر رنز نہیں بنا سکتے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا ’پھر کیوں ہم صرف ایک شخص کو نشانہ بنا رہے ہیں؟ راجکوٹ میچ میں ہاردک بھی جلد ہی آؤٹ ہو گئے تھے۔ ایسی صورت حال میں، ہم صرف ایک شخص کو نشانہ بنا رہے ہیں‘۔
حالیہ تنازعات کی کیا وجہ ہے؟
کوہلی نے دھونی کی کارکردگی پر کہا ہے کہ ’اگر دھونی دلی میں میچ میں چھکا لگا دیں تو اس میچ کی جھلکیوں میں اسے پانچ، پانچ بار دکھایا جائے گا اور ہر شخص خوش ہو جائے گا، لیکن اگر وہ سکور نہ کریں تو سب ان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں‘۔
ستمبر میں سری لنکا کے خلاف سیریز میں دھونی نے دوسرے ون ڈے میچ میں 45 رنز بنائے جبکہ تیسرے اور چوتھے میچ میں انھوں نے 67 اور 49 رنز سکور کیے۔
تاہم، راجکوٹ میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی 20 میچ میں دھونی نے 37 گیندوں پر 49 رنز سکور کیے۔ اس میچ میں انڈیا 197 رنز کا تعاقب کر رہا تھا اور نیوزی لینڈ کو اس میچ میں 40 رنز سے کامیابی ہوئی تھی۔
اس میچ کے بعد اجیت اگارکر اور وی وی ایس لکشمن نے دھونی کی جانب سے سست انداز میں بیٹنگ پر تنقید کی تھی۔