آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈین سوشل میڈیا پر کلدیپ یادو کی ہیٹ ٹرک کی دھوم
آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ایک روزہ کرکٹ میچ میں انڈین لیف آرم سپنر کلدیپ یادو نے جب لگاتار تین گیندوں پر میتھیو ویڈ ایشٹن ایگر اور پیٹ کمنز کو آؤٹ کیا تو وہ ون ڈے کرکٹ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے تیسرے انڈین بولر بن گئے۔
کولکتہ کے ایڈن گارڈنز سٹیڈیم میں کلدیپ نے یہ کارنامہ آسٹریلوی اننگز کے 33ویں اوور میں سرانجام دیا اور وہ پہلے انڈین سپنر ہیں جنھوں نے ایک روزہ کرکٹ میں ہیٹ ٹرک کی ہے۔
ان سے 26 سال قبل آخری مرتبہ کپل دیو نے انڈیا کے لیے ون ڈے میچ میں ہیٹ ٹرک کی تھی۔
یادو کی اس عمدہ کارکردگی کی بدولت انڈیا نے یہ میچ 50 رنز سے جیت کر سیریز میں دو صفر کی برتری بھی حاصل کی۔
میچ کے بعد اس بارے میں بات کرتے ہوئے کلدیپ کا کہنا تھا کہ 'یہ بہت خاص موقع ہے کیونکہ جس قسم کا آغاز میں نے کیا تھا، میں نے نہیں سوچا تھا کہ میں ہیٹ ٹرک کر پاؤں گا۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'جب میرا اینڈ تبدیل کیا گیا تو میں صرف ایک وکٹ لے کر دباؤ بڑھانا چاہتا تھا۔'
کلدیپ کی اس کارکردگی پر انڈین شائقین جھوم اٹھے اور ٹوئٹر پر ان کا نام ٹرینڈ کرتا رہا۔
عام شہریوں کے علاوہ انڈین کرکٹ سے وابستہ افراد اور کھلاڑی بھی سوشل میڈیا پر انھوں مبارکباد دیتے نظر آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کرکٹ کی تاریخ میں انڈیا کی جانب سے چار بولر کلدیپ سے قبل ہیٹ ٹرک کر چکے ہیں جن میں سے کپل دیو اور چیتن شرما نے ایک روزہ کرکٹ میچ میں جبکہ ہربھجن سنگھ اور عرفان پٹھان نے ٹیسٹ میچ میں یہ کارنامہ سرانجام دیا ہے۔
انڈین بولرز کی ہیٹ ٹرکس
چیتن شرما انڈیا کے لیے کسی بھی قسم کی انٹرنیشنل کرکٹ میں ہیٹ ٹرک کرنے والےپہلے بولر تھے۔
انھوں نے یہ کارنامہ 1987 کے ورلڈ کپ مقابلوں میں نیوزی لینڈ کے خلاف سرانجام دیا تھا۔
دائیں ہاتھ سے میڈیم فاسٹ گیند کرنے والے چیتن شرما نے سب سے پہلے نیوزی لینڈ کے بلے باز کین ردرفرڈ کی مڈل سٹمپ اکھاڑی تو دوسری گیند پر ایئن سمتھ کی آف سٹمپ اور تیسری گیند پر ائیون چیٹفيلڈ کی لیگ سٹمپ۔
شرما کو اس کارکردگی پر اس میچ میں سنیل گواسکر کے ساتھ بہترین کھلاڑی کا اعزاز دیا گیا تھا کیونکہ گواسکر نے اس میچ میں اپنے ون ڈے کریئر کی واحد سنچری بھی بنائی تھی۔
کپل دیو انڈیا کے لیے ہیٹ ٹرک کرنے والے دوسرے بولر تھے جنھوں نے یہ ہیٹ ٹرک 1990-91 کے ایشیا کپ کے فائنل میں کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں بنائی تھی۔
ان کی یہ ہیٹ ٹرک دو اوورز میں مکمل ہوئی تھی۔ اپنے ایک اوور کی آخری گیند پر کپل نے روشن مہنامہ کو کرن مورے کے ہاتھوں وکٹوں کے پیچھے کیچ کروایا تھا۔
اس کے بعد والے اوور میں سری لنکا کی ایک وکٹ اور گری اور جب کپل اپنا اگلا اوور کرنے آئے تو پہلی گیند پر سنتھ جے سوریا کو سنجے منجریکر نے کیچ کیا جبکہ دوسری گیند پر رمیش رتنائیکے ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔
یوں کپل کی ہیٹ ٹرک تو مکمل ہوئی لیکن نہ ہی کھلاڑیوں کو اس کا احساس ہوا اور نہ تماشائیوں کو۔
تماشائیوں کو کپل کی ہیٹ ٹرک کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب کھانے کے وقفے میں ایڈن گارڈنز کی سکرین پر اس بارے میں پیغام نمودار ہوا۔
ٹیسٹ کرکٹ میں انڈیا کے لیے پہلی اور مجموعی طور پر تیسری ہیٹ ٹرک سپنر ہربھجن سنگھ کے حصے میں آئی اور مقام اس مرتبہ بھی کولکتہ کا ایڈن گارڈنز ہی تھا۔
ہربھجن نے اس کارنامے کے دوران پہلے آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ اور ایڈم گلکرسٹ کو لگاتار دو گیندوں پر ایل بی ڈبلیو کیا اور تیسری گیند پر شین وارن فارورڈ شارٹ لیگ پر کھڑے سدگوپن رمیش کو کیچ دے بیٹھے۔
ہربھجن نے اس میچ میں کل 13 وکٹیں لیں اور انڈیا یہ میچ جیت گیا۔
انڈیا کے لیے ٹیسٹ کرکٹ میں دوسری اور مجموعی طور پر چوتھی ہیٹ ٹرک کی خاص بات یہ تھی کہ یہ ٹیسٹ میچ کے پہلے ہی اوور میں بنی۔
یہ 2006 کا سال اور کراچی کا مقام تھا۔ انڈیا اپنے روایتی حریف پاکستان کے خلاف کھیل رہا تھا۔
راہول ڈراوڈ کے ٹاس جیتنے کے بعد عرفان پٹھان نے جب پہلا اوور شروع کیا تو ان کی چوتھی گیند پر اوپنر سلمان بٹ شاٹ کھیلنے کی کوشش میں سلپ میں کیچ دے بیٹھے۔
اگلی گیند پر ان کی جگہ آنے والے یونس خان ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔
یونس کی جگہ لینے کے لیے محمد یوسف آئے لیکن عرفان کی اندر آتی ہوئی گیند ان کی مڈل سٹمپ سے جا ٹکرائی اور یوں عرفان پٹھان نے ٹیسٹ کرکٹ میں انڈیا کے لیے تیز ترین ہیٹ ٹرک مکمل کر لی۔
یوں اس پہلے اوور کے اختتام پر پاکستان کا سکور 0/3 تھا لیکن آخر میں فتح اسی کی ہوئی اور انڈیا یہ میچ 341 رنز سے ہارا۔