’سخت مقابلوں سے ویمن کرکٹ میں دلچسپی بڑھے گی‘

انگلینڈ کی بیٹر ٹیمی بیومونٹ

،تصویر کا ذریعہStu Forster

،تصویر کا کیپشنٹورنامنٹ میں سب سے زیادە رنز بنانے والی انگلینڈ کی بیٹر ٹیمی بیومونٹ ہیں
    • مصنف, ارم عباسی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، برسٹل، انگلینڈ

برطانیە میں جاری ویمن ورلڈ کپ کے مقابلوں میں منگل کو انگلینڈ اور جنوبی افریقە کے درمیان پہلا سیمی فائنل میچ برسٹل میں کهیلا جائے گا۔

اس سے پہلے گروپ میچ میں انگلینڈ نے ایک دلچسپ مقابلے میں جنوبی افریقە کو 68 رنز سے شکست دی تهی۔

اس سلسلے میں بی بی سی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انگلینڈ کی کپتان ہیدھر نائٹ نے کہا ’ہم میچ میں جیتے تو لیکن وە ایک بہترین مقابلە تها۔ برسٹل میں ہی ہونے والے اس میچ میں ویمن کرکٹ میں ون ڈے کی تاریخ کا سب سے زیادە سکور کیا گیا۔ جنوبی افریقہ ایک مضبوط ٹیم ہے اور وە ہم سے بدلہ لینے کی کوشش کرے گی جبکہ ہم اپنی اچهی کارگردگی کو برقرار رکهنے کی کوشش کریں گے'۔

گروپ میچ میں انگلینڈ نے جنوبی افریقہ کے خلاف پانچ وکٹوں کے نقصان پر 373 رنز بنائے تهے جبکہ جنوبی افریقہ پچاسں اورز میں 305 رنز ہی بنا سکا تھا۔

اس سلسلے میں بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں جنوبی افریقہ کی کپتان ڈین وان نیکرک کا کہنا تها 'ہماری پوری ٹیم نئے جذبے اور لگن کے ساتھ انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں اترے گی۔ ہم پچهلے میچ میں ہارے تھے مگر بہت سے لوگ یہ امید بهی نہیں کر رہے تهے کہ ہم اتنا سخت مقابلہ کریں گے، اس لیے ہم اسے محض ایک اور میچ کی طرح لے رہے ہیں۔‘

اب تک کے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادە رنز بنانے والی انگلینڈ کی بیٹر ٹیمی بیومونٹ ہیں جبکہ وکٹوں کے حساب سے جنوبی افریقہ کی کپتان پندرھ وکٹیں لے کر سرفہرست ہیں۔

ہیدھر نائٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانگلینڈ کی کپتان کہتی ہیں کہ ویمن کرکٹ میں سخت مقابلوں سے لوگوں کی اس میں دلچسپی بڑھے گی

اس سلسلے میں انگلینڈ کی کپتان کا کہنا ہے’ہمارے بیٹر نے اس ٹورنامنٹ میں بہترین کارگردگی دکهائی ہے اور میں کپتان کے طور پر بہت خوش ہوں۔ جنوبی افریقہ کی نہ صرف کپتان بلکہ ان کے پاس اور بهی اچهے بولرز ہیں اس لیے ہم یہی کوشش کریں گے کہ جس طرح ہم نے پچهلے میچ میں ان کا مقابلہ کیا اسی طرح سیمی فائنل میں بهی کهیلیں۔‘

جبکہ جنوبی افریقہ کی کپتان نے کہا ’میں چاہوں گی کہ کل کے میچ میں بهی زیادە سے زیادە وکٹیں لے کر اپنا حصە ڈال سکوں۔ ہم انگلینڈ کے ساتہ پہلے بهی کئی میچز کهیل چکے ہیں اس لیے ہم کسی حد تک جانتے ہیں کہ کل کیا ممکن ہو سکتا ہے۔ ہمارے ہر کهلاڑی کے لیے ضروری ہے کہ وە اپنا بہترین تجربہ میدان میں لے کر آئے۔‘

اس بات پر سب متفق ہیں کہ جنوبی افریقہ اس ٹورنامنٹ میں ایک بہترین ٹیم بن کر ابهری ہے، آخر اتنے کم وقت میں ایسی تبدیلی کیسے آئی؟

جنوبی افریقہ کی کپتان کہتی ہیں ’یہ تمام لڑکیوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ ہم میں بعض ایسی لڑکیاں بهی ہیں جو پہلی بار ورلڈ کپ کهیل رہی ہیں۔ اس لیے ہماری کوشش ہے کہ دباؤ کا شکار نہ ہوا جائے۔ میں اس ٹورنامنٹ میں یہ سوچ کر آئی تهی کہ میرے پاس بہترین اوپننگ اٹیک ہے لیکن اب لگ رہا ہے ہمارا بولنگ اٹیک بہترین ہے اور یہی کرکٹ کی خوبصورتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا ’میرے دوست اور خاندان والے بتا رہے ہیں کہ کس طرح جنوبی افریقہ میں لوگ ہم سے خوش ہیں۔ جگہ جگہ ہمارے پوسٹرز لگے ہیں۔ عوام خوش ہے کہ ہم سیمی فائنل تک پہنچے ہیں۔ یہی حمایت ویمن کرکٹ کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ ہمیں مدد دے گی کہ ہم اپنے ملک کی مزید لڑکیوں کو کرکٹ کهلینے کی طرف راغب کر سکیں۔‘

جنوبی افریقہ کی کپتان ڈین وان نیکرک (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہChris Hyde

،تصویر کا کیپشنجنوبی افریقہ کی کپتان پندرھ وکٹیں لے کر ٹورنامنٹ میں سرفہرست ہیں

اس سلسلے میں انگلینڈ کی کپتان کا کہنا ہے 'اس ٹورنامنٹ میں جس طرح میچز ٹی وی پر دکهائے گئے، جس قسم کی تشہیر ویمن کرکٹ کو ملی اس سے پہلے اس کی مثال نہیں ملتی تهی اور جس بہترین کرکٹ کا بیشتر ٹیموں نے مظاہرە کیا ہے مجهے خوشی ہے کہ ویمن کرکٹ میں دن بدن مقابلہ مزید سخت ہوتا جا رہا ہے اور اسی سے دنیا بهر میں لوگوں کی ویمن کرکٹ میں مزید دلچسپی پیدا ہو گی۔‘

انہوں نے کہا ’اپنے ملک میں کهیل رہے ہیں اور یقیناً عوام چاہتی ہے ہم ورلڈ کپ جیتیں اور ہماری بهی یہی کوشش ہے۔‘

اس سے پہلے پانچ مرتبہ انگلینڈ اور جنوبی افریقہ ورلڈ کپ میں آمنے سامنے آچکے ہیں جن میں سے انگلینڈ کی ٹیم چار میچز میں فاتح رہی۔

دوسرا سیمی فائنل 20 جولائی کو ڈاربی میں انڈیا اور آسٹرلیا درمیان ہوگا۔

ان سیمی فائنلز میں جیتنے والی ٹیمیں 23 جولائی کو ٹرافی اٹھانے کے لیے فائنل میں مدمقابل ہوں گی۔