آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹینس سٹار وینس ولیمز جان لیوا حادثے میں ملوث، مقدمے کا سامنا
امریکی ٹینس سٹار وینس ولیمز ایک ایسے کار حادثے میں ملوث ہیں جس کے نتیجے میں 78 سالہ شخص کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ اس شخص کی بیوہ کے وکیل کا کہنا ہے کہ وینس ولیمز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جارہی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ٹریفک حادثے میں وینس ولیمز کی غلطی جو جیروم برسن نامی شخص کی موت کی وجہ بنا۔
سرینا ولیمز کی بہن اور گرینڈ سلام چیمپئین وینس ولیمز کے ترجمان پالم بیچ گارڈنز نے فلوریڈا میں بی بی سی کو تصدیق کی کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایک ادھیڑ عمر شخص کو نو جون کو حادثے کے بعد ہسپتال لایا گیا تھا تاہم دو ہفتوں بعد ان کی موت واقع ہو گئی۔
ٹی ایم زیڈ نامی ویب سائٹ جس نے سب سے پہلے یہ خبر دی تھی کہ پولیس کا خیال ہے کہ یہ حادثہ وینس ولیمز کی غلطی کی وجہ سے ہوا تاہم ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک حادثہ تھا۔
ہلاک ہونے والے شخص کا نام جیروم بارسن ہے جو اپنی اہلیہ کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ گاڑی ان کی اہلیہ ہی چلا رہی تھیں۔ اس دوران چوراہے پر وینس ولیمز کی گاڑی کی ان کی گاڑی کے ساتھ ٹکر ہوئی جبکہ حادثے میں بارسن کی اہلیہ زخمی بھی ہوئی تھیں۔
امریکی میڈیا کو حاصل ہونے والی پولیس رپورٹ کے مطابق عینی شاہد نے بتایا ہے کہ وینس ولیمز کی گاڑی دوسری گاڑی کی راہ میں آ گئی اور ٹریفک جام کی وجہ سے وہ بروقت چوراہے سے ہٹ نہیں سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹینس سٹار نے دوسرے ڈرائیور کو راستہ نہ دے کر اس کی حق تلفی کی ہے تاہم یہ حادثہ نشہ آور اشیا یا موبائل فون کے استعمال کی وجہ سے نہیں ہوا۔
دوسری جانب سات مرتبہ گرینڈ سلام چیمپئین وینس ولیمز نے پولیس کو دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ وہ دوسری کار نہیں دیکھ سکیں اور وہ آہستہ گاڑی چلا رہی تھیں۔
ان کے وکیل نے سی این این کو بتایا کہ ’مس ولیمز چوراہے پر گرین لائٹ کے دوران داخل ہوئیں۔ پولیس رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ وہ اس وقت پانچ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلا رہی تھیں جب مسز بارسن کی گاڑی ان کی گاڑی سے ٹکرائی۔‘
حکام نے وینس ولیمز کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا کوئی ٹوٹس جاری نہیں کیا۔
یاد رہے کہ ٹینس سٹار اگلے ہفتے لندن میں ومبلڈن ٹورنامنٹ میں شرکت کریں گی۔