’ابھی کوہلی کا وقت ہے، انہیں انجوائے کرنے دیں‘

کمبلے اور کوہلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکمبلے نے کہا کہ کوہلی کو ان کے کوچنگ اسٹائل پر 'اعتراض' تھا
    • مصنف, زبیر احمد
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی

انیل کمبلے نے ایک سال بعد بھارت کے چیف کوچ کا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے بدھ کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ کپتان وراٹ کوہلی کے ساتھ ان کی پارٹنرشِپ آگے نہیں چل سکتی تھی۔

کمبلے نے کہا کہ کوہلی کو ان کے کوچنگ سٹائل پر 'اعتراض' تھا۔

انیل کمبلے نے کپتان سے اختلافات اور اپنے استعفیٰ کا اعلان ٹوئٹر پر کیا۔

سابق کپتان سنیل گواسکر اور بشن سنگھ بیدی نے ان کی حمایت کی اور کہا کہ گزشتہ ایک سال میں ان کا ریکارڈ زبردست ہے، اس دوران بھارت نے 17 ٹیسٹ میچ کھیلے، 12 جیتے اور صرف ایک ہارا۔

لوگوں کو کمبلے سے ہمدردی ہو رہی ہے۔

کوچ اور کپتان کے درمیان کشیدگی کی باتیں تو چیمپئنز ٹرافی سے پہلے سے چل رہی تھیں۔ کہا جا رہا ہے کہ کمبلے سخت نظم و ضبط میں یقین رکھتے ہیں جو کچھ کھلاڑیوں کو ناگوار گزر رہا تھا۔

ویراٹ کوہلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان سے ہار کے بعد کوہلی نے جس سپورٹسمین شپ کا مظاہرہ کیا اس سے لوگ انکے مداح ہوگئے

دونوں کے درمیان کشیدگی کی وجہ جو بھی رہی ہو اس پورے معاملے میں کوچ اور کپتان کے لوگوں کے سامنے تیور مختلف رہے ہیں۔

کمبلے نے اپنے باہمی جھگڑے کو عام کرتے ہوئے ٹویٹس میں صاف لکھا کہ 'ان کے سٹائل سے ٹیم انڈیا کے کپتان خوش نہیں'

دوسری طرف کوہلی نے 4 جون کو چیمپئنز ٹرافی میں بھارت اور پاکستان کے گروپ میچ سے پہلے کمبلے کے ساتھ اختلافات کی خبروں کو مسترد کر دیا تھا۔

اس پورے معاملے میں کوہلی نے کوئی بھی ایسا بیان نہیں دیا جس سے غیر ذمہ داری جھلکتی ہو۔

انہیں معلوم ہے کہ کہاں کیا کہنا چاہیے اور کہاں خاموش رہنا چاہیے لیکن ایسا انل کمبلے کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا۔

چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں شکست کے بعد کی تقریر نے کوہلی نے کئی پاکستانی کھلاڑیوں اور شائقین کو اپنا مداح بنا لیا ہے۔

وراٹ کوہلی اور کمبلے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوراٹ کوہلی نے کبھی ان اختلافات کو لوگوں کے سامنے ظاہر نہیں کیا

مجھے لگتا ہے کہ وہ بھارت اور دنیا بھر کی نوجوان نسل کے لیے ایک اچھا رول ماڈل بننا چاہتے ہیں. ان کی میدان میں کارکردگی کو جتنا سراہا گیا ہے، شاید اتنا آف-فیلڈ کارکردگی کو نہیں سراہا گیا۔

انڈین کرکٹ کی تاریخ میں کوچ اور کپتان کے جھگڑے کئی بار ہو چکے ہیں۔ گریگ چیپل اور سورو گنگولی کے درمیان اختلافات کے بارے میں بھی کافی لکھا جا چکا ہے۔

بھارتی کرکٹ میں کپتان کا مقام اہم ہوتا ہے۔ منصور علی خان پٹودی، اجیت واڈیکر، اظہر الدین، سورو گنگولی اور مہندر سنگھ دھونی جیسے بڑے بڑے کھلاڑی کپتان رہ چکے ہیں۔

سب جانتے ہیں کہ کپتان کی کی بات کو اہم تسلیم کی جاتا ہے اور اگر کپتان اچھا لیڈر ہونے کے ساتھ اچھا کھلاڑی بھی ہو تو اس کی بات زیادہ مانی جاتی ہے۔

کمبلے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکمبلے نے اس باہمی جھگڑے کو عام کیا

کپتان اور کوچ کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے ایک بار آسٹریلیا کے سابق کوچ جان بکانن نے کہا تھا کہ 'کوچ اور کپتان کا رشتہ اعتماد اور احترام پر مبنی ہونا چاہیے اور یہ کوئی زندگی بھر کا معاہدہ نہیں ہے لیکن ٹیم کے اندر اور باہر اتحاد کا ایک 'عوامی' مظاہرہ ہونا چاہیے'۔

لگتا ہے کمبلے نے اس توازن کو کھو دیا لہذا استعفیٰ دے کر اچھا کیا۔

صرف اعتراض اس پر ہے کہ انہیں کوہلی کے ساتھ اپنے اختلافات کو عام نہیں کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے اپنے دور میں خوب نام کمایا، ان کا نام ملک کی کرکٹ کی تاریخ میں سب سے اچھے بولروں کی فہرست میں شامل ہے۔

لیکن کمبلے جی اب آپ کا وقت نہیں رہا، اب وقت ہے وراٹ کوہلی کا، اب وقت ہے دنیا کے اول نمبر کے بیٹسمین کوہلی کا۔

وہ ابھی صرف 28 سال کے ہیں، کپتان اور کھلاڑی کی حیثیت سے اب ان کے انجوائے کرنے کا وقت ہے۔