آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
وہاب کی ٹیم میں شمولیت کا فیصلہ میرا تھا: مکی آرتھر
- مصنف, فراز ہاشمی
- عہدہ, بی بی سی اردو سروس، برمنگھم
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ مکی آرتھر نے کہا ہے کہ انڈیا کے خلاف میچ میں فاسٹ بولر وہاب ریاض کو ٹیم شامل کرنے کا فیصلہ ان کا تھا جس کی وہ پوری ذمہ داری لیتے ہیں۔
اس میچ میں وہاب ریاض نے غیرمعیاری بولنگ کرتے ہوئے آٹھ اعشاریہ چار اوور میں 87 رنز دیے جو چیمپیئنز ٹرافی کی تاریخ میں کسی بھی بولر کی بدترین کارکردگی ہے۔
وہ اپنے نویں اوور میں ان فٹ ہو کر میدان سے باہر بھی چلے گئے تھے۔
میچ کے بعد پاکستان کی مایوس کن کارکردگی کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مکی آرتھر نے کہا کہ وہاب ریاض کو کھلانے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ پاکستانی ٹیم کے پاس زیادہ سے زیادہ آپشن یا متبادل ہوں۔
انھوں نے کہا کہ محمد عامر، حسن علی اور جنید خان کی رفتار کم و بیش ایک جیسی ہے اور وہاب ریاض کو اس لیے کھلایا گیا کہ ٹیم کے پاس ایک تیز رفتار بالر بھی موجود ہو۔
اس میچ سےایک دو دن پہلے تک وہاب ریاض کی فٹنس کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے تھے اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں مکی آرتھر نے کہا کہ وہ مکمل طور پر فٹ تھے۔
عامر کا پٹّھہ کھنچنے کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا ٹورنامنٹ کے ابتدائی میچوں میں ایسا نہیں ہوتا اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر وہ ٹیم کی میڈیکل ٹیم سے بات کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'ہم بدقسمتی سے بنیادی چیزیں ہی درست نہیں کر پائے۔'
یہاں انھوں نے کیچ ڈراپ ہونے کا ذکر بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ وکٹوں کے درمیان دوڑنا اور کیپر کو تھرو پھینکا ایسی ہی بنیادی چیزیں ہیں جو ٹیم درست طریقے سے نہیں کر پائی۔
ویراٹ کوہلی نے بھی میچ کے پریس کانفرنس میں کہا کہ انڈیا نے بھی ایک اور تیز رفتار بولر کو کھلانے کا فیصلہ وکٹ کو دیکھتے ہوئے کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ وہ بھی ٹاس جیتے تو بولنگ کرنے کا فیصلہ کرتے لیکن پاکستان نے طرح یہ فیصلہ کیا اس سے انھیں یہ محسوس ہوا کہ وہ ہدف کا پیچھا نہیں کرنا چاہتے اور چھ کی اوسط سے زیادہ رن انھیں مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔
پاکستان سے کرکٹ کھیلنے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ انڈیا کے اعلٰی حکام کو کرنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ کرکٹ کھیلنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مد مقابل کون ہے لیکن پاکستان کے ساتھ کھیلتے ہوئے جس قسم کا ماحول بن جاتا ہے اس سے کرکٹ کھیلنے میں زیادہ مزا آتا ہے۔