آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
'اظہر کا بلا کبھی خاموش نہیں رہے گا'
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
کرکٹ سٹارڈم بھی عجیب چیز ہے۔ اس کا کوئی معیار یا پیمانہ نہیں ہے۔ بس کسی کے 'بھاگ' جاگتے ہیں اور اس کے سر پہ ہما بیٹھ جاتا ہے۔ اور کوئی سالہا سال کی ریاضت کاٹ کر بھی اس سے محروم رہتا ہے۔
یونس خان کی مثال لیجے۔ وہ پاکستان کے پہلے کھلاڑی ہیں جو دس ہزار ٹیسٹ رنز کا اعزاز حاصل کر پائے۔
ٹیسٹ کرکٹ کی چوتھی اننگز میں اوسط دیکھی جائے تو وہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے بہترین بیٹسمین ہیں۔ وہ دنیا کے واحد بیٹسمین ہیں جو گیارہ ممالک میں سینچری سکور کر چکے ہیں۔
اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نوجوان کرکٹرز کے رول ماڈل یونس خان ہوتے اور پاکستان کے سکولوں کے نصاب میں اسی طرح یونس پہ مضامین شامل کیے جاتے جیسے بھارت کے بچوں کو تندولکر کے بارے پڑھایا جاتا ہے لیکن یہ تو اس ہما کی مرضی کہ جسے یونس کے سر بیٹھنا ہی نہیں ہے۔
یہی مثال اظہر علی کی بھی ہے۔ جس رفتار سے وہ آگے بڑھ رہے ہیں، عین ممکن ہے کچھ سال بعد وہ بھی اسی فہرست کا حصہ بن جائیں جہاں یونس کھڑے ہیں۔ لیکن یہ تقریباً طے ہے کہ اظہر بھی کبھی سٹار نہیں بن پائیں گے۔
کیونکہ بھئی یہ تو ہما ہے، جس کے سر بیٹھنا ہو ایک ہی سینچری کے بعد بیٹھ جاتا ہے۔ اور جس کے 'نصیب' میں نہ ہو وہ چاہے سنچریوں پہ سنچریاں بناتا رہے، محروم تمنا ہی رہتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پچھلے ایک سال میں اظہر علی نے اپنے کریئر کا مشکل ترین وقت گزارا ہے۔ شاید انھیں اس منجدھار سے نہ گزرنا پڑتا اگر وہ ون ڈے کے کپتان نہ بنائے جاتے۔ کیونکہ جس دن انھیں کپتان بنایا گیا تھا، ان کا کڑا وقت شروع ہو گیا تھا۔
خدا خدا کر کے تین ماہ پہلے وہ کڑا وقت ختم ہوا اور اظہر کی جان بخشی ہوئی۔ لیکن اس سارے عرصے میں بھی اظہر کا بلا خاموش نہیں رہا۔
جس وقت قوم کے بھرپور اصرار پہ اظہر کپتانی سے دستبردار ہوئے، پی ایس ایل شروع ہونے کو تھی اور اظہر لاہور قلندرز کا حصہ تھے۔ باوجود اس کے کہ گذشتہ سیزن میں وہ لاہور کے کپتان تھے، یہ سارا سیزن انھوں نے بینچ پہ بیٹھ کے گزارا۔
اس کے بعد جب دورہ ویسٹ انڈیز کے لیے ون ڈے سکواڈ کا اعلان ہوا تو اظہر علی کو ڈراپ کر دیا گیا۔ گویا صرف دو ٹیموں کی قیادت ہی ہاتھ سے نہ گئی، ان ٹیموں میں جگہ تک نہ بن پائی۔ قسمت بھی ایسی بےتکلفی کسی کسی کو ہی دکھاتی ہے۔
ایسی صورت حال میں عموما انسان دل شکستہ ہو جاتا ہے۔ ترک دنیا کے خیالات سر اٹھانے لگتے ہیں اور کچھ نہ بھی ہو، کم از کم ایک آدھ گرما گرم پریس کانفرنس اور دو چار دھماکے دار بیان تو کہیں نہیں گئے۔
لیکن اظہر کو جب بھی موقع ملا، انھوں نے جواب اپنے بلے سے ہی دیا۔ صرف پچھلے ایک سال کی ہی بات کیجیے تو اس بیچ اظہر ایک ٹرپل سینچری، ایک ڈبل سینچری اور تین سینچریاں بنا چکے ہیں۔
بھلے پورا پاکستان ان کے خلاف ہم آواز ہو کر ان کی کپتانی پہ تنقید کرتا رہا اور ان کو کپتانی ہی کیا، ٹیم سے بھی نکالنے کے مطالبے ہوتے رہے، اظہر کا جواب اظہر کے بلے سے ہی سامنے آیا۔
کل کی سینچری بھی اظہر کا ایسا ہی ایک جواب تھا۔
شاید اظہر علی کبھی سٹار نہ بن پائیں لیکن یہ طے ہے کہ ان کا بلا کبھی خاموش نہیں رہے گا۔