پاکستانی کرکٹ کا مسئلہ صرف ورلڈ کپ کوالیفکیشن نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
چلیے اچھا ہوا کہ ویسٹ انڈیز نے خود ہی اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مار لی ورنہ نہ صرف 26 سالہ ریکارڈ ٹوٹ جاتا بلکہ اور بھی کافی کچھ بکھر جاتا۔ سرفراز کی کپتانی پہ سوال اٹھنے لگتے۔ مکی آرتھر کی پلاننگ پر بحث ہوتی۔ انضمام الحق کی اپروچ کو مزید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا اور خواہ مخواہ پاکستان کرکٹ ایک اور بحران کی زد میں آ جاتی۔
پی سی بی نے گذشتہ چند ماہ میں کافی مشکل فیصلے کیے ہیں۔ اظہر کو کپتانی سے ہٹایا گیا۔ یہی نہیں، انھیں ٹیم سے بھی نکالا گیا۔ کامران اکمل کو واپس بلایا گیا۔ احمد شہزاد کو واپسی کا موقع دیا گیا اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار خالصتا 'جمہوری' بنیادوں پر سرفراز احمد کو کپتان مقرر کیا گیا۔
ان سبھی تبدیلیوں کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان کرکٹ کا کلچر بدلا جائے۔ 'سست' کرکٹ سے نکل کر جارحانہ انداز اپنایا جائے اور اس عہد رفتہ کی نشاۃِ ثانیہ کا آغاز کیا جائے جب یہ ٹیم وسیم اکرم، وقار یونس، سعید انور اور انضمام وغیرہم جیسے جارح مزاج کھلاڑیوں سے بھری ہوتی تھی اور ہار جیت سے قطع نظر صرف اپنی جارحیت کے جھنڈے گاڑتی چلی جاتی تھی۔
اب یہ انقلابی اقدامات کتنے نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں، یہ تو اگلے تین ماہ تک ہی کھلے گا۔ فی الوقت یہی کافی ہے کہ پاکستان ویسٹ انڈیز سے دو ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی جیت کر دو سیریز اپنے نام کر چکا ہے۔
اب سوال ہے تو صرف ورلڈ کپ کی براہِ راست کوالیفکیشن کا، جس کے لیے پاکستان اور ویسٹ انڈیز میں مقابلہ ابھی جاری رہے گا۔
اپنے تئیں ویسٹ انڈیز نے افغانستان سے، جو کہ آئی سی سی رینکنگ میں دسویں نمبر پر ہے، ایک ہوم سیریز کا اہتمام کر رکھا ہے۔ جب کہ پاکستان کو اس بیچ چیمپیئنز ٹرافی میں کم از کم تین میچ کھیلنا ہیں اور اگر پی سی بی اور بی سی بی کے بیچ معاملات نمٹ گئے تو بنگلہ دیش میں بھی ایک ون ڈے سیریز کھیلنا ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پریشان کن بات یہ ہے کہ ان آئندہ میچز میں پاکستان کو جن ٹیموں کا سامنا کرنا ہو گا، ان میں سے کوئی بھی ویسٹ انڈیز جیسی کمزور نہیں ہے۔ سو ایسے میں عملاً پاکستان کے چانسز کس قدر مثبت ہیں؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگر تو بات صرف گراؤنڈ کے اندر کارکردگی تک محدود رہے تو پاکستان سے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائر کھیلنے کی ہزیمت سے بچ سکتا ہے مگر یہاں مسئلہ صرف ورلڈ کپ کوالیفکیشن کا نہیں ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ پی سی بی کو یہ ثابت کرنا ہے کہ جو نیا کرکٹ کلچر پاکستان اپنا رہا ہے وہ مثبت نتائج پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مکی آرتھر کو یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کی پلاننگ سے یہ ٹیم نئے عہد میں داخل ہو سکتی ہے۔ سرفراز کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ انٹرنیشنل لیول کے کپتان بن سکتے ہیں اور بعد از تمام، احمد شہزاد اور کامران اکمل کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اس ڈریسنگ روم میں بیٹھنے کے قابل ہیں۔
ایسے میں دشواری صرف یہ ہوتی ہے کہ جب تک جیت نصیب ہوتی رہے، سب ہرا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن جہاں ایک بار شکست سے پالا پڑ جائے، وہاں شکست و ریخت کا ایسا عمل شروع ہوتا ہے کہ ہر چیز مشکوک دکھائی دینے لگتی ہے۔ آسٹریلیا پچھلے چھ ماہ میں کچھ ایسے ہی تجربے سے گزرا ہے۔
پہلے ون ڈے میں جب جیسن محمد نے ایک واضح فتح پاکستان کے منہ سے چھین لی تو دوسرے ون ڈے میں یہ ساری ٹیم پریشر میں دکھائی دی۔ اگر حسن علی پانچ وکٹیں نہ لیتے تو یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ پاکستان صرف اپنی پلاننگ اور ٹیم ورک کی بنیاد پہ وہ میچ اور سیریز بچا پاتا۔ اسی طرح ٹی ٹوئنٹی سیریز میں اگر شاداب اتنی عمدہ کارکردگی نہ دکھاتے تو سیریز کا نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
جہاں ایک طرف یہ بات خوش آئند ہے کہ نئے لڑکے میچ ونر ثابت ہو رہے ہیں، وہیں فکر کی بات یہ ہے کہ ہر میچ ایک سپیل یا ایک سینچری سے نہیں جیتا جا سکتا۔ یہ وہی بولنگ اٹیک تھا جس نے ٹی ٹوئنٹی میں کبھی 140 سے اوپر سکور نہیں ہونے دیا اور پہلے ہی ون ڈے میں صرف آخری تیرہ اوورز میں ایک جیتا ہوا میچ ہار گیا۔ حتی کہ دوسرے ون ڈے میں جب 75 رنز پر ویسٹ انڈیز کے چھ کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے تو پھر ان کا ٹوٹل 208 رنز تک کیسے چلا گیا؟
اور صرف بولنگ اٹیک ہی نہیں، اگر چند انفرادی پرفارمنسز کو ہٹا کر دیکھا جائے تو یہ بیٹنگ لائن بھی خاصی معصوم نظر آتی ہے۔ دوسرے ون ڈے میں اگر بابر اعظم سینچری نہ کرتے تو پاکستان شاید پورے اوورز بھی نہ کھیل پاتا۔ اسی طرح آخری میچ میں بھی ہمیں ٹاپ آرڈر ریت کی دیوار دکھائی دیا۔
ایسے میں ڈر صرف اس بات کا ہے کہ اگر خدانخواستہ یہ ٹیم چیمپیئنز ٹرافی میں ایک دو میچ ہار گئی تو پھر کون سا کرکٹ کلچر ڈھونڈنے نکلے گی؟











