کرپٹ کھلاڑیوں پر ہمیشہ کے لیے دروازے بند کردیے جائیں، مصباح الحق

مصباح

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمصباح الحق نے کہا کہ آپ بار بار اس طرح کی صورتحال کے متحمل نہیں ہوسکتے کیونکہ اس سے کھیل اور ملک دونوں کا وقار بری طرح مجروح ہوتا ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کرکٹ کرپشن میں ملوث کرکٹرز پر ہمیشہ کے لیے کھیل کے دروازے بند کر دینے چاہئیں اور اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے تاحیات پابندی جیسا سخت قدم اٹھانا ہوگا۔

واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹ اس وقت پی ایس ایل کرپشن سکینڈل میں گھری ہوئی ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ اس میں مبینہ طور پر ملوث پانچ کرکٹرز کو معطل کرچکا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبدالشید شکور کے مطابق مصباح الحق نے اتوار کے روز نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کے دوران جو سکینڈل سامنے آیا ہے اس نے پاکستان کی پچھلے سات سال کی تمام تر محنت پر پانی پھیر دیا ہے جو پاکستان کی کرکٹ کا امیج بلند کرنے کے لیے کی تھی۔

یاد رہے کہ 2010 میں انگلینڈ کے دورے میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل سامنے آیا تھا جس میں ملوث تین کرکٹرز سلمان بٹ محمد آصف اور محمد عامر کو نہ صرف آئی سی سی نے سزا دی تھی بلکہ یہ تینوں کرکٹرز اس جرم میں جیل بھی گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے مصباح الحق کو پاکستانی ٹیم کا کپتان مقرر کیا تھا اور ان کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم نے اہم کامیابیوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں پاکستان اور پاکستان کرکٹ کا مثبت امیج بھی نمایاں کیا۔

مصباح الحق نے کہا کہ اگر اس طرح کے افسوسناک واقعات بار بار دوہرائے جاتے رہے تو پھر ہمیں کرپٹ کھلاڑیوں پر تاحیات پابندی جیسے سخت قدم بھی اٹھانے پڑیں گے۔ اس سلسلے میں قانون سازی کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے واقعات کا موثر تدارک کیا جائے اور اگر کوئی اس طرح کی حرکت کرتا ہے تو اس پر ہمیشہ کے لیے کرکٹ کے دروازے بند ہونے چاہیئں۔

مصباح الحق نے کہا کہ آپ بار بار اس طرح کی صورتحال کے متحمل نہیں ہوسکتے کیونکہ اس سے کھیل اور ملک دونوں کا وقار بری طرح مجروح ہوتا ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ 2010 میں جو کچھ ہوا تھا اس کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں نے بڑی قربیانیاں دیں اور ملکی وقار کو بحال کرنے کے لیے سخت محنت کی لیکن پی ایس ایل سکینڈل کے بعد اب کرکٹرز کو ایک بار پھر محتاط رہنا پڑے گا اور اپنے طرز عمل سے ایک بار پھر ملک کا امیج بحال کرنا ہوگا۔