آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
'یہ لڑکیاں کیا لڑکوں سے کم ہیں؟'
- مصنف, نریندر کوشک
- عہدہ, صحافی، روہتک
ساکشی کماری نے گذشتہ دسمبر میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ دہلی کے علاقے روہنی میں واقع ایک ملٹی پلیکس میں عامر خان کی فلم 'دنگل' دیکھی۔
اگلے دن اس 15 سالہ نوجوان نے جھججھر ضلع کے اپنے گاؤں اسودا میں بچوں کے ایک اکھاڑے میں شمولیت اختیار کر لی۔
نویں جماعت میں پڑھنے والی شاکشی بلالي (بھوانی) گاؤں کی گیتا اور ببیتا کی طرح بین الاقوامی تمغہ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
اسودا میں ایسا ارادہ رکھنے والی شاکسی اکیلی لڑکی نہیں ہیں۔
ان کی کشتی کلاس میں تربیت پانے والی 55 لڑکیوں میں سے زیادہ تر گیتا، ببیتا اور شاکشی ملک (پچھلے اولمپکس کی میڈلسٹ) جیسا بننا چاہتی ہیں۔
شاکشی کے علاوہ نو اور ایسی لڑکیاں ہیں جنھوں نے 'دنگل' فلم سے متاثر ہو کر کشتی کی كلاسز میں داخلہ لیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دہلی روہتک راستے پر واقع اسودا میں ہریانہ حکومت میں کھیلوں کی کوچ سدیش دلال صرف لڑکیوں اور چھوٹے لڑکوں کو کشتی سکھاتی ہیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ انھیں پنچایت کی درخواست پر گاؤں میں سنہ 2015 کے آخر میں دوبارہ تعینات کیا گیا ہے۔
پہلے وہ سنہ 2013 میں یہاں لڑکیوں کے سکول میں کشتی سکھاتی تھیں، اس وقت ان کے پاس 30 لڑکیاں آتی تھیں جبکہ گذشتہ 14 مہینوں میں یہ تعداد تقریباً دگنی ہو گئی ہے۔
اب وہ پرائمری سکول کے بڑے سے گراؤنڈ میں اور حکومت کی طرف سے دیے گئے گدوں پر کشتی سکھاتی ہیں۔ گاؤں کا منظر بھی بدل گیا ہے۔
وہ بتاتی ہیں: پہلے لوگ لڑکیوں کی کشتی کو اچھا نہیں مانتے تھے۔ اب والدین ان کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔
سدیش دلال کے بیان کی تصدیق ديپالي (درجہ ہشتم) اور اس کے خاندان کی ندھی، پراچی اور میناکشی کرتی ہیں۔
ان چاروں کو ان کے خاندان کے ایک مرد راجندر سنگھ روز صبح دوڑ لگانے کے لیے لے جاتے ہیں۔
'دنگل' فلم کے مہابير سنگھ پھوگاٹ کی طرح پیشے سے ڈرائیور راجندر سنگھ لڑکیوں کی دوڑ کا معائنہ موٹر سائیکل سے کرتے ہیں۔
ديپالي کہتی ہیں: ہم چاروں صبح ایک پنچایتی گراؤنڈ کے پانچ چکر لگاتے ہیں تو راجندر دادا موٹر سائیکل سے ہم پر نظر رکھتے ہیں۔
ديپالي ایک بچے گوتم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ پریکٹس کرتی ہیں۔
انہی کی طرح دادری تحصیل کے دوجانا گاؤں کی رہنے والی اور ماسٹر چندگي رام اکھاڑے کی پہلوان دیپکا ناگر بھی بڑے فخر سے کہتی ہیں: 'میں ہیوی ویٹ لڑکوں کے ساتھ بھی مشق کرتی ہوں۔'
پہلے قومی سطح پر کبڈی کھلاڑی رہ چکی دیپکا ناگر جب بھی 'دنگل' فلم دیکھتی ہیں تو ان کو گیتا میں خود کا چہرہ نظر آتا ہے۔
خیال رہے کہ ہریانہ اور دہلی میں کشتی میں لوگوں کی دلچسپیاں سشیل کمار کے سنہ 2008 بیجنگ اولمپکس میں کانسی کا تمغہ اور یوگیشور دت، شاکشی ملک اور پھوگاٹ بہنوں (گیتا، ببیتا اور ونیش) کی اولمپکس اور دولت مشترکہ گیمز میں کامیابی کے ساتھ بڑھنے لگیں تھیں۔
لیکن فلم 'سلطان' اور 'دنگل' نے نہ صرف کشتی میں گلیمر کی چمک شامل کر دی ہے بلکہ دلچسپیوں کو جنون میں تبدیل کر دیا۔
جہاں سلمان خان کی فلم 'سلطان' میں دہلی اور ہریانہ کے بہت سارے پہلوانوں کے چھوٹے موٹے کردار سے کشتی کو فروغ ملا وہیں، عامر خان کی 'دنگل' نے ہریانہ کے والدین کا لڑکیوں کی کشتی کے بارے میں نظریہ ہی بدل دیا۔ اس نے لڑکیوں کے نئے اکھاڑے کھلوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سونی پت کے سبھاش سٹیڈیم میں جونیئر اور سب-جونیئر کوچ راج سنگھ چھكارا کہتے ہیں: 'صرف میرے ضلع میں گذشتہ تین مہینوں میں لڑکیوں کے پانچ نئے اکھاڑے کھلے ہیں جبکہ پہلے لڑکیوں کا صرف ایک اکھاڑہ تھا لیکن اب چھ ہیں۔‘
ماسٹر چندگي رام کے بیٹے اور مشہور پہلوان جگدیش كالي رمن کہتے ہیں: 'چند ماہ پہلے تک مجھے اپنے بچے چراكشي اور انشمن کی پریکٹس کے لیے جوڑی دار نہیں ملتے تھے۔ اب یہ دقت نہیں ہے کیونکہ پرائمری سکول کے بچوں نے اکھاڑے کا رخ کر لیا ہے۔
والدین اب لڑکوں کے اكھاڑوں کے کوچز کو بھی اپنی بیٹیوں کو شاگرد کے طور پر لینے کی درخواست کرنے لگے ہیں۔
اسی سبب چندگي رام اکھاڑے نے لڑکیوں کے لیے اپنے ہاسٹل کو بڑا بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
دیپکا بتاتی ہیں: ابھی یہاں صرف چار پانچ لڑکیاں ہی رہ سکتی ہیں، لیکن بڑے ہال بننے کے بعد تین گنا مزید لڑکیاں رہ پائیں گی۔
وہ تین ماہ پہلے تک اپنے گاؤں کی اکیلی پہلوان تھیں۔ اب گاؤں میں ہی روی پہلوان کچھ اور بچوں کو اپنے گھر پر کشتی سکھانے لگے ہیں۔
ان کی پڑوسی جیوتی یادو کے خاندان والے جو کسی بھی قیمت پر اپنی بیٹی کو کشتی سے دور رکھنا چاہتے تھے 'دنگل' کے بعد ان کے نظریات بدل گئے ہیں۔
دیپکا مسکراتے ہوئے کہتی ہیں کہ 'جیوتی نویں کے امتحان کے بعد اکھاڑے میں آ جائے گی۔‘
دیپا کے ہی اکھاڑے کی ودھو یادو کا خیال ہے کہ لڑکوں کے ساتھ مشق کرنے سے لڑکیوں میں زیادہ اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے کئی جگہ مشترکہ مشق کے بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بہر حال ہریانہ جیسی ریاست میں لڑکیوں کا کشتی جیسے کھیل میں آنے کی اہمیت اسی لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ ہریانہ کو پہلے ایسی ریاست کے طور پر جانا جاتا رہا ہے جہاں لڑکیوں کا پیدا ہونا منحوس سمجھا جاتا تھا اور اس کی وجہ سے جنس کا تناسب زیادہ خراب تھا۔