آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’شارجہ شارجہ ہے جی!‘
- مصنف, ذیشان علی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، شارجہ
18 اپریل 1986 شارجہ کا میدان، پاکستان بمقابلہ انڈیا، جیت کے لیے چار رنز درکار، جاوید میانداد بلے باز اور چیتن شرما بولر، یہ وہ الفاظ ہیں جن کا ذکر کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں آ ہی جاتا ہے۔
کرکٹ کے فین ہونے کی حیثیت سے میرا بھی یہ خواب تھا کہ ایک بار شارجہ کے اس تاریخی میدان کو ضرور دیکھوں جس نے جاوید میانداد کے آخری گیند پر چھکے اور کئی دیگر تاریخی میچوں کی میزبانی کی ہے۔
لہٰذا اس خواب کی تکمیل کا موقع مجھے پاکستان سپر لیگ نے فراہم کیا اور میں نے اس کے لیے میچ کی ٹکٹ بھی خرید لی۔
میچ شروع ہونے سے تقریباً دو گھنٹے قبل ہی میں گراؤنڈ کے باہر پہنچ گیا۔ جلدی جلدی ٹیکسی سے اترا اور گراؤنڈ کی جانب تیز قدموں سے چلنے لگا، لیکن جب سٹیڈیم کے مرکزی دروازے پر پہنچا تو وہاں پہلے سے موجود ہزاروں مداحوں کو دیکھ کر یک دم دل میں یہ خیال آیا کہ کیا میں گراؤنڈ میں داخل بھی ہو پاؤں گا؟
اس ہجوم کی ایک بڑی وجہ متحدہ عرب امارات میں جمعے کی چھٹی اور دوسری وجہ یہاں بسنے والے پشتونوں کی ایک بڑی تعداد تھی جو پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان کھیلے جانے والا میچ دیکھنے آئے تھے۔
ہر طرف ایک عجیب سا سماں تھا، اردو، پشتو، پنجابی، ہندی اور بنگالی سننے کو مل رہی تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ میچ شارجہ میں نہیں بلکہ لاہور یا کراچی میں ہو رہا ہو۔
خیر اس سارے ماحول سے لطف اندوز ہونے کے بعد میں نے ہمت کی اور گراؤنڈ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ لمبی قطار میں کھڑا ہو گیا۔
ہماری قطار کے پاس ہی کھڑے شارجہ پولیس اہلکار سے میں نے اس سارے ماحول کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پہلا موقع ہے کہ ہمیں ان لوگوں کو ہٹانے کے لیے ہاتھوں میں چھڑی اٹھانا پڑی ہے، جو مارنے کے لیے نہیں صرف ڈرانے کے لیے ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد میں گراؤنڈ کے داخلی دروازے پر پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ گراؤنڈ میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلی بات جو دل میں آئی وہ یہ تھی کہ اچھا یہ ہے وہ گراؤنڈ جس کا ذکر بچپن سے سنتے آ رہے ہیں۔
ویسے تو شارجہ کرکٹ سٹیڈیم زیادہ بڑا گراؤنڈ نہیں اور اس میں تقریباً 15 ہزار شائقین کے بیٹھنے کی جگہ ہے لیکن جمعے کے روز یہ میدان کھچاکھچ بھرا ہوا تھا اور میچ شروع ہونے کے بعد بھی باہر ان مداحوں کی لمبی قطار موجود تھی جو اندر داخل ہونا چاہتے تھے۔
گراؤنڈ میں داخل ہونے پر معلوم ہوا کہ میچ شروع ہو چکا ہے اور چار اوور بھی پھینکے جا چکے ہیں لیکن بھلا ہو بارش کا جس کے باعث میچ اس وقت روک دیا گیا تھا۔
’شارجہ، شارجہ ہے جی، پاکستان یا پشاور کا میچ ہو اور گراؤنڈ خالی ہو، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا،' یہ کہنا تھا میری ساتھ والی نشست پر بیٹھے خوشحال نامی ایک شخص کا۔
بدقسمتی سے بارش کے باعث کچھ زیادہ ہی وقفے ہونے لگے اور بار بار کھیل کو روک دیا جاتا تھا جس کے وجہ سے وہ لطف نہیں آ رہا تھا جو عام طور پر گراؤنڈ میں میچ دیکھنے سے آتا ہے۔
بارش کے باعث جب بھی میچ روک دیا جاتا تو سب تماشائیوں کے چہروں پر مایوسی اور دوبارہ میچ شروع ہونے پر خوشی کی لہر دوڑ جاتی۔
ایسی ہی مایوسی مجھے بھی ہو رہی تھی کیونکہ شارجہ کے تاریخی میدان پر میچ دیکھنے کا میرا خواب بھی بارش کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا تھا اور ہوا بھی کچھ ایسا ہی۔
کیونکہ براہ راست میچ دیکھنے کے لیے خریدے ٹکٹ پر ہمیں گراؤنڈ میں لگی بڑی سکرین پر پشاور زلمی اور لاہور قلندرز کے درمیان ہوئے میچ کی جھلکیاں دیکھنی پڑی رہی تھی۔
جیسے ہی گراؤنڈ میں اعلان ہوا کہ بارش کی وجہ سے میچ ختم کر دیا گیا ہے اور دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ ملا ہے، تو زلمی اور گلیڈی ایٹرز کے فینز نے گراؤنڈ سے باہر جانا شروع کر دیا، ان میں سے زیادہ تر فینز کہہ رہے تھے، 60، 50 درہم کا ٹکٹ خریدا اور بارش نے مزہ خراب کر دیا۔'
بطور کرکٹ فین مایوسی مجھے بھی ہوئی تھی لیکن میری خوشی کے لیے وہ ایک لمحہ کافی تھا جب سٹینڈ میں بیٹھے تماشائیوں کو معلوم ہوا کے ان میں بیٹھی ایک چھوٹی بچی کی آج سالگرہ ہے، تو سب میچ بھول کر اس کی جانب متوجہ ہوئے اور اونچی آواز میں کہنے لگے :’یپی برتھ ڈے ٹو یو۔' اور وہ بچی خوشی سے شرماتے ہوئے اپنی ماں کی گود میں جھک گئی۔