پی ایس ایل: 'چھوڑیں بھائی ہم کیوں اپنا دل جلائیں '

    • مصنف, ذیشان علی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، شارجہ

متحدہ عرب امارت میں قیام پزیر پاکستانیوں کے مطابق پی ایس ایل سیزن ٹو کی مقبولیت کی وجہ کرکٹ کے بجائے چند کھلاڑیوں کی مبینہ فکسنگ اور بک میکرز سے روابط بن گئی ہیں۔

اسی حوالے سے شارجہ میں جب بی بی سی نے چند لوگوں سے بات کی تو ان میں سے بعض نے تو یہ کہہ کر بات کرنے سے انکار کر دیا کہ 'چھوڑیں بھائی ہم کیوں اپنا دل جلائیں۔'

تاہم جن لوگوں نے بات کی ان میں سے اکثر کا کہنا تھا کہ اگر یہ کھلاڑی واقعی اس میں ملوث ہیں تو انھیں سخت سزائیں ہونی چاہیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ارشد نے بھی اسی خیال کا اظہار کیا۔

'میرا نہیں خیال کہ ایسا کچھ ہوا ہے لیکن اگر ان کھلاڑیوں نے ایسا کیا ہے تو انھیں سخت سزائیں دینی چاہیے تاکہ دیگر کھلاڑی ایسا نہ کریں۔'

شارجہ کرکٹ سٹیڈیم کے قریب ہی ایک ریستوران میں کام کرنے والے ناصر خان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ 'جن کھلاڑیوں کا نام سامنے آیا ہے اس بات پر بہت دکھ پہنچا ہے۔'

ناصر خان کا کہنا تھا کہ 'یہ اچھے کھلاڑی تھے لیکن یہ پاکستان کے لیے نہیں پیسے کے لیے لڑتے ہیں۔ اس طرح پاکستان کو بدنام کرنے پر بہت دکھ پہنچا ہے۔'

خیال رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے آغاز پر دفاعی چیمپیئن ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ کے دو کھلاڑی اور بعد میں دیگر کھلاڑیوں کے حوالے سے بھی یہ خبریں سامنے آئیں تھیں کہ ان کے مبینہ طور پر بک میکرز کے ساتھ روابط تھے۔

بعد میں دیگر کھلاڑیوں کو تو کلیئیر کر دیا گیا تھا تاہم اسلام آباد یونائیٹڈ کے شرجیل خان اور خالد لطیف کو معطل کر دیا گیا۔

توقیر احمد کیانی نامی شخص کا کہنا تھا کہ 'سب کچھ اچھا ہونے کے باوجود اس طرح کی سرگرمی میں ملوث ہونے پر دکھ ہوتا ہے۔ اچھے خاصے پیسے پی ایس ایل سے بھی ملتے ہیں اور پھر بھی۔۔۔'

گذشتہ ایک سال سے دبئی میں رہائش پذیر نقاش نے کہا: 'میرا نہیں خیال کہ یہ کھلاڑی برے لوگ ہیں۔ انھیں بھٹکایا گیا ہے، لیکن پی سی بی اچھے انداز سے ان سے نمٹ لے گی۔'

پاکستان سپر لیگ میں دو دن کے وقفے کے بعد آج شارجہ میں اسلام آباد یونائیٹڈ اور کوئٹہ گلیڈیئٹرز کے درمیان میچ کچھ دیر کے بعد شروع ہو گا۔