پاکستان سپر لیگ، کس ٹیم میں کتنا دم؟

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی

پاکستان سپر لیگ کے دوسرے سیزن کا آغاز جمعرات سے دبئی میں ہو رہا ہے۔ اس لیگ میں پہلے سیزن کی طرح پاکستانی اور غیرملکی کھلاڑی شریک ہیں تاہم اس مرتبہ تین غیر ملکی کھلاڑیوں ڈیرن سیمی، برینڈن میککلم اور کمارا سنگاکارا کو اپنی ٹیموں کی کپتانی بھی سونپی گئی ہے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ

اسلام آباد یونائیٹڈ پاکستان سپر لیگ کی دفاعی چیمپین ٹیم ہے۔

یونائیٹڈ کے مالکان نے اس سال انہی کھلاڑیوں پراعتماد ظاہر کیا ہے جنھوں نے گذشتہ سال فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو چھ وکٹوں سے شکست دے کر ٹائٹل جیتا تھا البتہ انھیں ویسٹ انڈیز کے آندرے رسل کی کمی شدت سے محسوس ہو گی جن پر اینٹی ڈوپنگ ٹریبیونل نے ایک سالہ پابندی عائد کردی ہے۔

آندرے رسل پہلی پاکستان سپر لیگ میں سب سے زیادہ 16 وکٹیں حاصل کرنے والے بولر تھے۔ ان کی جگہ انگلینڈ کے فاسٹ بولر سٹیون فن کو سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان مصباح الحق ہیں جو اگرچہ بین الاقوامی ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کو خیرباد کہہ چکے ہیں لیکن محدود اوورز کی کرکٹ کی باریکیوں کو سمجھتے ہوئے اس وقت بھی ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کسی بھی مضبوط بولنگ پر حاوی ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسلام آباد کی بیٹنگ لائن میں مصباح الحق کے علاوہ شرجیل خان، شین واٹسن، بریڈ ہیڈن، ڈوین سمتھ، سیم بلنگز اور خالد لطیف جیسے جارحانہ بیٹسمین موجود ہیں۔

یونائیٹڈ کی بولنگ لائن محمد سمیع سیمیوئل بدری، عمران خالد اور محمد عرفان پر مشتمل ہے۔

آف سپنر سعید اجمل انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کی امیدیں لیے اسلام آباد یونائیٹڈ میں شامل ہیں۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز

سرفراز احمد کی قیادت میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو کیون پیٹرسن، لیوک رائٹ، احمد شہزاد کی خدمات حاصل ہیں۔

گذشتہ سال کوئٹہ کی طرف سے احمد شہزاد دو نصف سنچریوں کی مدد سے سب سے زیادہ 290 رنز بنانے والے بیٹسمین تھے لیکن کیون پیٹرسن سمیت دیگر بیٹسمین بجھے بجھے سے رہے تھے اور کوئی بھی بیٹسمین ایک سے زائد نصف سنچری سکور نہیں کرسکا تھا۔

محمد نواز بولنگ میں 13 وکٹوں کے ساتھ قابل ذکر رہے تھے۔ اس بار بھی وہ عمرگل، انور علی اور باصلاحیت میر حمزہ کے ساتھ ٹیم کا حصہ ہیں۔

کوئٹہ نے کارلوس بریتھ ویٹ کی جگہ معین علی کو ٹیم میں شامل کیا لیکن انھوں نے عمرے کی ادائیگی کی وجہ سے معذرت کرلی جس کے بعد بریڈ ہوج کو ٹیم میں شامل کیا گیا لیکن انھوں نے بھی ذاتی وجوہات کی بنا پر کھیلنے سے معذرت کرلی اور اب کوئٹہ نے بنگلہ دیشی آل راؤنڈر محمود اللہ کو ٹیم میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سری لنکا کے تھسارا پریرا بھی ٹیم میں شامل ہیں اور اکتوبر کی ڈرافٹنگ میں شامل نہ کیے جانے والے نیتھن مک کلم کو بھی دوبارہ ٹیم میں جگہ دی گئی ہے۔

افغانستان کے محمد نبی افغانستان اور زمبابوے کی سیریز کی وجہ سے اس بار سپر لیگ میں شامل نہیں ہیں۔

پشاور زلمی

شاہد آفریدی اگرچہ اب انٹرنیشنل کرکٹ کا حصہ نہیں رہے لیکن اس کے باوجود وہ پاکستان سپر لیگ میں شائقین کی بھرپور توجہ کا مرکز ہیں۔

پشاور زلمی کو شکیب الحسن، الیکس ہیلز اور محمد شہزاد کی خدمات حاصل نہیں ہیں۔

انگلینڈ کے ون ڈے کپتان اوئن مورگن اور بنگلہ دیش کے تمیم اقبال بھی پورے ٹورنامنٹ کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔

پشاور زلمی نے اس کمی کو مارلن سیمیولز آندرے فلیچر اور تلکارتنے دلشن سے پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔

بولنگ میں حسن علی کا ٹیلنٹ جو گذشتہ سال اسی پاکستان سپر لیگ سے سامنے آیا تھا پاکستانی ٹیم کے ساتھ انگلینڈ اور آسٹریلیا کے دورے کر کے کافی تجربہ حاصل کر چکے ہیں۔

گذشتہ ٹورنامنٹ میں 15 وکٹیں حاصل کرنے والے وہاب ریاض اور لیفٹ آرم سپنر محمد اصغر سے بھی پشاور زلمی بڑی امیدیں لگائے ہوئے ہے۔

کراچی کنگز

کراچی کنگز کی قیادت اس بار سنگاکارا کے سپرد کی گئی ہے جو گذشتہ سال کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی طرف سے چند میچز کھیلے تھے۔

ان کے علاوہ لاہور قلندر کی طرف سے کھیلنے والے کرس گیل بھی کراچی کنگز میں شامل ہیں۔

بابر اعظم کا ٹیلنٹ بھی کراچی کے پاس ہوگا۔

شعیب ملک اور روی بوپارا کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کی امیدیں بھی کراچی نے قائم کر رکھی ہیں۔

بولنگ میں محمد عامر، عماد وسیم اور سہیل خان فرنٹ لائن بولرز کے طور پر دکھائی دیتے ہیں۔

لاہور قلندر

گذشتہ سال صرف دو میچ جیت کر پانچ ٹیموں میں سب سے آخری نمبر پر آنے والی لاہور قلندر کی ٹیم نے اس بار ٹیسٹ کرکٹ کی تیز ترین سنچری بنانے والے برینڈن میک کیلم کو اپنے سکواڈ میں شامل کیا ہے۔

یہی نہیں بلکہ اظہر علی کی جگہ انھیں ٹیم کی قیادت کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی ہے۔

لاہور قلندر گذشتہ سال سب سے زیادہ 335 رنز بنانے والے عمر اکمل اور جیسن روئے کی مدد سے اس بار قسمت بدلنے کی کوشش کرے گی۔

بولنگ گذشتہ سال لاہور قلندر کا سب سے بڑا مسئلہ رہی تھی اس بار اس نے سنیل نارائن، گرانٹ ایلیٹ اور سہیل تنویر کو شامل کیا ہے۔

ایلیٹ گذشتہ سال کوئٹہ کی طرف سے کھیلتے ہوئے 11 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔