مصر کے سابق سٹار فٹبالر کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مصر میں حکام کی جانب سے ماضی کے معروف فٹبال کھلاڑی محمد ابو تریکہ کو کالعدم تنظیم اخوان المسلمون کے ساتھ ان کے مبینہ روابط کے الزام میں دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔
سابق فٹبال سٹار کے وکیل کے مطابق ابوتریکہ پر اخوان المسلمون کو مالی امداد فراہم کرنے کا الزام ہے۔
مصر میں اخوان المسلمون کو دہشت گرد جماعت قرار دیا گيا ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 2012 میں یہ جماعت کامیابی کے ساتھ اپنے رکن محمد مرسی کو کرسی صدارت پر بٹھانے میں کامیاب ہوئی تھی۔
محمد ابوتریکہ کو سنہ 2008 کا بی بی سی ’افریقی فٹبالر آف دا ايئر‘ منتخب کیا گیا تھا۔ مصر کے اس اعلان سے ان کے بعض مداحوں نے ان سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔
دہشت گردی کی اس فہرست میں جس کا بھی نام ہے اس کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی جاتی ہے، ان کے پاسپورٹ ضبط کرلیے جاتے ہیں اور ان کی املاک منجمد کر دی جاتی ہے۔
محمد ابوتریکہ کے وکیل محمد عثمان نے کہا کہ حکومت کا یہ قدم قانون کے منافی ہے کیونکہ ان کے مؤکل کو نہ تو قصور وار ٹھہرایا گیا اور نہ ہی باضابطہ ان کے خلاف کوئی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
محمد عثمان نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف وہ اپیل کریں گے اور ان کے مؤکل ابوتریکہ ان الزامات کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مصر کے سابق فٹبالر ال اہلی کلب اور قومی ٹیم کے رکن رہ چکے ہیں۔ انھیں اپنے زمانے میں ’دلوں کا شہزادہ‘، ’جادوگر‘ اور ’درویش‘ جیسے القاب سے نوازا جا چکا ہے۔
لیکن عوامی طور پر مرسی کی حمایت کے ان کے فیصلے پر ان کے متعلق رائے منقسم ہو گئی اور مرسی ایک ہی سال تک اقتدار میں رہے۔
سنہ 2015 میں ان کی املاک کو مصری حکام نے ضبط کیا جن میں کئی کمپنیوں میں ان کے حصص بھی شامل تھے۔
فوج نے اخوان المسلمون کے اراکین پر کریک ڈاؤن کیا جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں کو قید ہو گئی۔
مرسی کو حکومت مخالف مظاہروں کے نتیجے میں حکومت سے سنہ 2013 میں ہٹا دیا گيا۔








