اسد شفیق کی سنچری لیکن آسٹریلیا جیت سے 2 وکٹ دور

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
آسٹریلیا کو برسبین میں پہلا ڈے نائٹ ٹیسٹ جیتنے کے لیے پاکستان کی صرف دو وکٹیں درکار ہیں۔
چوتھے دن کھیل ختم ہونے پر پاکستان نے زبردست مزاحمت کرتے ہوئے اپنی دوسری اننگز میں 382 رنز بنائے تھے اور اس کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہوچکے تھے۔
اس طرح پاکستان کو جیتنے کےلیے اب بھی 108رنز درکار ہیں۔
اسد شفیق دس چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 100 رنز پر ناٹ آؤٹ ہیں۔
یہ ان کی ٹیسٹ کرکٹ میں دسویں سنچری ہے۔
پاکستان نے 70 رنز دو کھلاڑی آؤٹ پر دوسری اننگز شروع کی تو اظہرعلی اور یونس خان کسی دشواری کے بغیر پہلا سیشن گزارنے میں کامیاب ہوگئے۔
یہ شراکت آہستہ آہستہ بڑھتی ہوئی کپتان سمتھ کی فرسٹریشن میں اضافہ کرتی رہی لیکن دوسرے سیشن میں صرف 28 رنز کے اضافے پر گرنے والی تین وکٹیں سمتھ کے چہرے پر مسکراہٹ واپس لے آئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اظہرعلی ایک 179 گیندوں پر نوچوکوں کی مدد سے 71 رنز بناکر مچل سٹارک کی لیگ سائیڈ کی گیند پر وکٹ کیپر میتھیو ویڈ کو کیچ دے گئے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اظہرعلی اور یونس خان نے تیسری وکٹ کی شراکت میں 91 رنز کا اضافہ کیا۔
یونس خان جنھوں نے گذشتہ روز کسی رن کے بغیر انیس گیندیں کھیلی تھیں آج سامنا کرنے والی پہلی ہی گیند پر چوکے سے پیئر کے خطرے سے خود کو چھٹکارا دلایا۔
وہ اپنے ٹیسٹ کریئر کی بتیسویں اور آسٹریلوی سرزمین پر دوسری نصف سنچری مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے لیکن 65 کے انفرادی سکور پر نیتھن لائن کو ریورس سوئپ کرنے کی کوشش میں سلپ میں اسٹیو اسمتھ کے ہاتھوں اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔
کپتان مصباح الحق 34 گیندوں پر صرف پانچ رنز بناکر برڈ کی گیند پر وکٹ کیپر ویڈ کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔
انگلینڈ کے خلاف لارڈز میں سنچری کے بعد سے مصباح الحق پندرہ اننگز میں صرف چار نصف سنچریاں بنانے میں کامیاب ہوسکے ہیں جن میں سے دو انگلینڈ کے اسی دورے میں ہی بنی تھیں۔
173 رنز پر پانچ وکٹیں گرنے کے بعد اسد شفیق اور سرفراز احمد نے چھٹی وکٹ کی شراکت میں 47 رنز جوڑے لیکن مچل اسٹارک کی ایک عمدہ گیند نے سرفراز احمد کے بلے اور پیڈ کے درمیان جگہ بناتے ہوئے اسمٹپ کو نشانہ بنادیا۔وہ 24 رنز بناسکے۔
اسد شفیق نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ابوظہبی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں نصف سنچریوں کے بعد آٹھ اننگز میں پہلی نصف سنچری پانچ چوکوں اور ہیزل ووڈ کو لگائے گئے چھکے کی مدد سے مکمل کی۔

،تصویر کا ذریعہAP
محمد عامر نے مستند بیٹسمین کی طرح کھیلتے ہوئے اپنے ٹیسٹ کریئر کا بہترین انفرادی اسکور کرتے ہوئے پانچ چوکوں کی مدد سے 48 رنز بنائے۔
جیکسن برڈ نے انھیں میتھیو ویڈ کے ہاتھوں کیچ کراکر ساتویں وکٹ کے لیے قیمتی 92 رنز کی شراکت کا خاتمہ کردیا۔
اسد شفیق کی خوش قسمتی کہ 72 کے سکور پر اسٹارک کی گیند پر اسمتھ نے سلپ میں ان کا کیچ گرا دیا۔
آسٹریلوی کپتان اس سے قبل سرفراز احمد کا کیچ بھی ہیزل ووڈ کی گیند پر ڈراپ کرنے کے خطا وار ٹھہرے تھے۔
اسد شفیق اور وہاب ریاض نے آٹھویں وکٹ کی شراکت میں 66 رنز کا اضافہ کیا۔
وہاب ریاض دن کے آخری اوور میں دو چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے 30 رنز بناکر برڈ کی گیند پر اسمتھ کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔







