امریکی سیاح خلائی سفر پر روانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خلاء کی سیر کے لیے تین کروڑ ڈالر ادا کرنے والے امریکی خلائی سیاح رچرڈ گیرئٹ کامیابی سے خلاء میں روانہ ہوگئے ہیں۔ سینتالیس سالہ رچرڈ گیرئٹ سویوز بین الاقوامی خلائی مرکز پر دس دن گزاریں گے اور وہ ٹی ایم اے تیرہ نامی خلائی جہاز کے ذریعے اپنے سفر پر روانہ ہوئے۔ یہ خلائی جہاز بیکانور کے خلائی مرکز سے روانہ ہوا۔ رچرڈ کے والد اوئن گیرئٹ ایک خلاباز تھے اور انہوں نے 1973 میں امریکی خلائی مرکز پر ساٹھ دن گزارے تھے اور اس دوران انہوں نےخلاء سے زمین کی سطح کی تصاویر اتاری تھیں۔اپنے بیٹے کے خلائی سفر پر روانگی کے موقع پر اوئن ماسکو میں خلائی مشن کے کنٹرول مرکز میں موجود تھے۔ رچرڈ کے ساتھ اس خلائی سفر پر جانے والوں میں امریکی خلا باز مائیک فنک اور روسی فلائٹ انجینئر یوری لنچاکوو بھی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ رچرڈ گیرئٹ سپیس ایڈونچرز نامی اس امریکی کمپنی کے بورڈ ممبر بھی ہیں جنہوں نے روسی خلائی جہازوں پر پانچ سیاحوں کے سفر کا انتظام کیا ہے۔ سنہ 2001 میں خلاء کی سیاحت کے لیے جانے والے کیلیفورنیا کے بزنس مین ڈینس ٹیٹو بھی اسی کمپنی کے پروگرام کے تحت روانہ ہوئے تھے۔ رچرڈ اپنے اس دورے کے دوران پروٹین کرسٹلز کی بڑھوتری کے حوالے سے تجربات بھی کریں گے۔ ان کے مطابق یہ تجربات ان کمپنیوں کے لیے کیے جائیں گے جنہوں نے ان کے تین کروڑ ڈالر کے ٹکٹ میں ’قابلِ ذکر حصہ‘ ڈالا ہے۔ | اسی بارے میں خاتون خلائی سیاح واپس پہنچ گئیں29 September, 2006 | نیٹ سائنس پہلی خاتون خلائی سیاح18 September, 2006 | نیٹ سائنس ایک کروڑ دس لاکھ پاونڈ کا خلائی سفر03 October, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||