’بگ بینگ‘ تجربہ، دو ماہ کی تاخیر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی تنظیم برائے جوہری تحقیق ’سرن‘ کا کہنا ہے کہ ’بگ بینگ‘ کے فوراً بعد کے لمحات پیدا کرنے کے لیے جاری تجربے کے دوران ہیڈرون کولائیڈر میں جو نقص پیدا ہوا ہے اس صحیح کرنے میں کم از کم دو ماہ لگیں گے۔ ’سرن‘ کے ترجمان کے مطابق تین اعشاریہ چھ ارب پاؤنڈ مالیت کے ’پارٹیکل ایکسیلیریٹر‘ کو ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ فرانس اور سوئٹزلینڈ کی سرحدوں پر زیر زمین واقع تحقیقاتی مرکز ’سرن‘ میں موجود انجینئرز اور سائنسدانوں کو ہیڈرون کولائیڈر میں ذرات کو دہشتناک قوت سے ٹکرانے کا منصوبہ جمعہ کو اس وقت روکنا پڑا جب کولائیڈر کے مقناطیس میں خرابی پیدا ہوگئی۔ ’کوئنچ‘ نامی اس خرابی کے نتیجے میں کولائیڈر کے انتہائی سرد مقناطیسوں میں سے قریباً سو کا درجہ حرارت سو ڈگری سنٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ خرابی کی وجہ سے سرنگ میں موجود خلاء ختم ہوگیا اور ایک ٹن مائع ہیلیم سرنگ کے اندر پھیل گئی۔ صورتحال سے نمٹنے کے لیے آگ بجھانے والے عملے کو بھی طلب کرنا پڑا۔ ’سرن‘ کے ترجمان کے مطابق اگرچہ یہ ناکامی ’ایک اچھی خبر نہیں‘ تاہم اس قسم کی تاخیر غیر متوقع نہیں تھی۔ یاد رہے کہ سائنسدانوں نے اسی ماہ کی آٹھ تاریخ کو پروٹون ذرات کی دو شعائیں اس سرنگ میں داغی تھیں۔ اس تجربے کے بارے میں تین دہائی قبل سوچا گیا تھا۔ ’سرن‘ کے زیر اہتمام کیئے جانے والے اس تجربے کے دوران انجینیئر ذرات کی ایک شعاع کو ستائیس کلومیٹر طویل زیر زمین سرنگ نما مشین سے گزارنے کی کوشش کریں گے۔ پانچ ارب پاؤنڈ کی لاگت سے تیار ہونے والی اس مشین میں ذرات کو دہشت ناک طاقت سے آپس میں ٹکرایا جائے گا تاکہ کائنات کی ابتدا پر ہونے والے دھماکے اور اس کے اثرات کی علامتوں کو نئی طبیعات پر آشکار کیا جا سکے۔ تجربے کے لیے سرنگ میں ایک ہزار سلنڈر کی شکل کے مقناطیسوں کو ساتھ ساتھ رکھا گیا ہے۔ ان ہی مقناطیسی سلنڈروں سے پروٹون ذرات کی ایک لکیر پیدا ہو گی جو ستائیس کلو میٹر تک دائرے کی شکل میں بنائی گئی سرنگ میں گھومے گی۔ سرنگ میں پروٹون ذرات کے ٹکرانے سے دو لکیریں پیدا ہوں گی جنہیں اس مشین کے اندر روشنی کی رفتار سے مخالف سمت میں سفر کرایا جائے گا۔ اس طرح ایک سیکنڈ میں یہ لکیریں گیارہ ہزار جست مکمل کریں گی۔سرنگ کے اندر مقررہ جگہوں پر ذرات کی یہ لکیریں ایک دوسرے کا راستہ کاٹیں گی اور ان کے اس ٹکراؤ کا مشاہدہ کیا جائے گا۔ سائنسدانوں کو امید ہے کہ اس تجربے کے دوران نئے سب آئٹم سامنے آئیں گے جن سے کائنات کی ہیت کو سمجھنے کے لیے بنیادی معلومات حاصل ہوں گی۔ |
اسی بارے میں بگ بینگ تجربے کا کامیاب آغاز10 September, 2008 | نیٹ سائنس بِگ بینگ:انڈیا میں لڑکی کی خودکشی 11 September, 2008 | نیٹ سائنس کائنات کی سب سےٹھنڈی جگہ20 July, 2008 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||