پارنچنس: جہاں سارا سال رقص ہوتا ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پارنچنس میں داخل ہوتے ہی جو پہلی چیز کسی بھی نووارد کو چونکا دیتی ہے وہ مختلف جگہوں پر لال اور نیلے رنگ کا استعمال ہے۔ معاملہ لطائف کے اس بچے کا نہیں ہے جو ہرجگہ صرف لال رنگ استعمال کرتا تھا اور پوچھنے پر ماہر نفسیات کو جواب ملا تھا کہ لال رنگ اس لیے استعمال کرتا ہوں کہ باقی سب رنگ ختم ہوگئے ہیں۔ پارنچنس میں سارے رنگ موجود ہیں لیکن بات شہر کے دو حصوں کے درمیان آگے بڑھ جانے کے اس جذبے کی ہے جس کی نمائندگی نیلے اور لال رنگ کرتے ہیں۔
پارنچنس کے ایک سائیکل رکشہ ڈرائیور منوئیل نے بتایا کہ شہر کے دو حصوں میں زبردست مقابلہ ہوتا ہے اور پورے شہرنے لگتا ہے کہ لال اور نیلے رنگ اوڑھ لیے ہیں۔ اصل میں لوگ جانتے ہیں کہ دنیا انہیں دیکھ رہی ہے اور انہیں مدمقابل کو نیچا دکھانا ہی دکھانا ہے۔ منوئیل کی بات کی مزید وضاحت پارنچنس کے پچپن برس کے شہری ونوشد پئیرپشیے نے کی کہ دراصل مقابلہ تو شہر کے بومبا رقص سکھانے والے دو سکولوں کے درمیان ہوتا ہے جو سارے شہر کو لپیٹ لیتا ہے۔ لڑکوں کو بومبا ڈانس سکھانے والے ایک اسکول کا نام گرنشیدو ہے جبکہ دوسرا کپراشیزو کہلاتا ہے۔ دونوں بڑے پرانے سکول ہیں اور یہ سارا فیسٹول دونوں کی آگے بڑھ جانے کی جدوجہد کے گرد ہی گھومتا ہے۔ ونوشد پئیرپشیے نے مزید بتایا کہ پارنچنس کا یہ مشہور فیسٹول ہر برس اٹھائیس سے تیس جون تک منعقد ہوتا ہے اور اس میں دور دور سے لوگ آتے ہیں۔ فیسٹول کے دوران پارنچنس شہر کی آبادی نوے ہزار سے تین گنا تک بڑھ جاتی ہے اور چونکہ پارنچنس دریائے ایمیزن میں ایک جزیرے پر آباد ہے، لہٰذا تقریباً سارے لوگ ہی بذریعہ کشتی پارنچنس پہنچتے ہیں۔
ویسے تو یہ بہت پہلے سے جاری تھا لیکن تقریباً پینتیس برس پہلے اس کو باضابطہ ایک اسٹریٹ پارٹی کی شکل میں منانا شروع کیا گیا جس میں صرف روایتی رقص ہوتے تھے۔ لیکن کوئی دس بارہ برس پہلے کوکاکولا اور مقامی مشروب ساز کمپنیوں نے باقاعدہ اس سے تعاون شروع کردیا جس کے بعد سے تو یہ بڑھتا ہی جارہا ہے اور اب اس میں پرتگال، اسپین، امریکہ، جرمنی اور یورپ کے دوسرے حصوں سے بھی لوگ خاص طور پر شرکت کے لیے آتے ہیں۔ سلوادور لے آل نے یہ بھی بتایا کہ اس فیسٹول کی سارا سال تیاری کی جاتی ہے اور ایک کے فوراً بعد اگلے برس کی تیاری شروع ہوجاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیسٹول کی تیاری کے لیے دونوں سکولوں کے پاس بڑے بڑے وئیر ہاؤس ہیں جہاں پورے سال مقابلہ جیتنے کی ریہرسل کی جاتی ہے۔ اب نہ صرف اس میں گرنشیدو اور کپراشیزو کے روایتی رقاص ایک دوسرے کے مقابل ہوتے ہیں بلکہ رنگا رنگ ملبوسات کے فیشن شو ہوتے ہیں، فلوٹ بنائے جاتے ہیں، کھانوں کی نت نئی اقسام کا مقابلہ ہوتا ہے، غرض بہت کچھ ہوتا ہے۔ لیکن ونوشد پئیر پشیے کے مطابق فاتح چننے کے لیے تو موسیقی، ملبوسات اور رقص کا ہی مقابلہ ہوتا ہے لیکن اس میں کسانوں اور عام لوگوں کی ملکۂ حسن کا مقابلہ بھی شامل ہوتا ہے۔ یہ بات خاص طور پر دیکھی جاتی ہے کہ رقص کرنے والے لڑکوں نے اپنے ساتھ مقابلے میں شریک لوگوں کو کیسے متعارف کرایا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||