ایمیزن: زندگی اور موت کا اژدہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آپ نے یقیناً ایمیزن کے جنگلات کے بارے میں سنا ہوگا۔ برازیل کے قدیم انڈین باشندوں کی زبان میں ایمیزن دراصل ایسے بہت بڑے اژدہے کو کہتے ہیں جو زندگی اور موت دونوں کی ترجمانی کرتا ہے۔ آج کا دریائے ایمیزن اور اس سے سیراب ہونے والے خطہ استوا کے جنگلات کو دیکھا جائے تو اس کو سچ ثابت کرتے ہیں۔ ساؤ پالو میں ایک روز گزار کے مناس کا رخ کیا جہاں سے دریائے ایمیزن کے اس انوکھے سفر کا باقاعدہ آغاز ہونا تھا۔ ہوائی جہاز جب مناس کے نزدیک پہنچا تو کھڑکی سے یہ دیکھ کر خاصی حیرانی ہوئی کہ ایمیزن کے گھنے جنگلات کے بیچوں بیچ بیس لاکھ سے زیاد آبادی کا اتنا بڑا شہر موجود ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ آس پاس کا سبزہ شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہا تھا۔ میرے ساتھ سفر کرنے والے انڈونیشین سروس کے محمد عارفین نے ائیرپورٹ سے باہر نکلتے ہی اعلان کر دیا کہ یہ مناس نہیں، اس کا آبائی علاقہ بورنیو ہے۔ پوچھنے پر بتایا کہ مناس کی فضاء میں بھی ویسی ہی خوشبو ہے جیسی کہ بورنیو میں ہوتی ہے، جبکہ سبزہ اور سڑک کنارے پھلوں کی دکانیں بھی ویسی ہی ہیں۔ مناس بیس لاکھ آبادی کا شہر ہے اور برازیل میں اس علاقے کا صدر مقام جو دریائے ایمیزن سے سیراب ہوتا ہے اور ایمیزونیا کہلاتا ہے۔ سفر کا آغاز تو ’ریو نیگرو‘ یا کالے دریا سے ہوا مناس کا شہر جس کے کنارے واقع ہے لیکن تھوڑی دیر کے سفر کے بعد ہم سولیمونیاس نام کے اس مقام پر پہنچ گئے جہاں ریو نیگرو اصل ایمیزن میں شامل ہوجاتا ہے۔ اسی مقام کے بارے میں ہماری کشتی ’دوم نیستور‘ کے چونسٹھ برس کے ملاح پیدرو نے بتایا کہ یہاں سے کالا دریا بڑے ایمیزن میں شامل ہوجاتا ہے لیکن اس جگہ پر ریو نیگرو کا کالا اور ہلکا سا تیزابی پانی ایمیزن کے مٹیالے پانی سے بالکل الگ ہوتا ہے۔ پیدرو کے بقول ریو نیگرو کے پانی کے کالا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے ارد گرد کے جنگلات سے بعض ایسے قدرتی کیمیکل پانی میں شامل ہوتے ہیں جو نہ صرف پانی کو کالا کر دیتے ہیں بلکہ اس میں کچھ تیزابی خصوصیات بھی آجاتی ہیں۔ ایمیزن دراصل بہت سے چھوٹے بڑے دریاؤں سے مل کر بنتا ہے اور ان تمام کی مجموعی لمبائی اسی ہزار کلومیٹر کے لگ بھگ ہے، جبکہ اس سے سیراب ہونے والے جنگلات کا مجموعی رقبہ اس وقت تینتالیس لاکھ مربع کلومیٹر ہے اور یہ نہ صرف دنیا کا سب بڑا جنگل ہے بلکہ دنیا میں کسی دوسرے جنگل سے زیادہ درختوں اور جانوروں کی اقسام یہاں پائی جاتی ہیں۔ تاہم اس کی اصل اہمیت دنیا میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے مقابلے میں اس کا کردار ہے جس کو جنگلات کی مستقل کٹائی سے شدید خطرہ درپیش ہے۔ اسی چیز سے دنیا کو آگاہ کرنے کے لیے بی بی سی نے ایمیزن پروجیکٹ کے نام سے خصوصی پروگراموں کا یہ سلسلہ شروع کیا ہے جس کے دوران میں دوم نیستور سے آپ کے لیے ایمیزن اور اس کے جنگلات متعلق مختلف موضوعات پر تفصیل آئندہ چند روز میں پیش کرتا رہوں گا کہ جنگلات کی تباہی کی وجہ کیا ہے، اس کو روکنے کی کیا کوششیں ہیں اور صدیوں سے جن لوگوں کی زندگی کا دارومدار اسی انوکھے دریا پر ہے، وہ زندگی کیسے گزارتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||