بولیویا: سونے کی ’منحوس‘ کانیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بولیویائی ایمیزین میں ایک علاقہ ایسا بھی ہے جہاں جو لوگ سونا کھوجتے اور اسے اپنےہاتھوں میں پکڑ پاتے ہیں وہ غریب ہوتے ہیں! اور جو لوگ کان کنی سے اپنا گزر بسر کرتے ہیں، مانا جاتا ہے کہ ان کی موت کا سبب بھی کان کنی ہی بنتی ہے۔ یہ علاقہ ہے تیپوآنی۔ بولیویا کے دارلحکومت لا پاز سے تقریباً تین سو کلومیٹر دور واقع دس ہزار کی آبادی والے اس علاقے کو ’ سونے کا دارالحکومت‘ کہا جاتا ہے۔ ہم اپنی جیپ میں اس دشوار گزار راستے سے ہوتے ہوئے تیپوآنی پہنچے جسے یہ سونے کی کانوں کا علاقہ ہے۔ لیکن جدھر بھی نظر ڈالیں، غربت اور افلاس کے آثار ہی نظر آتے ہیں۔سونے کی ایک کان سے وابستہ ہرنان فرنانڈیز نے بی بی سی کو بتایا کہ تیپوآنی میں ہر سال چھ ٹن سونا نکالا جاتا ہے۔ کچھ بیرون ملک سمگل ہو جاتا ہے۔ یہاں سونے کی کان کنی کوآپریٹوز کے ذریعہ ہوتی ہے۔ سرکار کی طرف سے کوئی مالی اعانت نہیں ہوتی۔ جو لوگ کانوں میں کام کرتے ہیں، وہ اخراجات کی ادائیگی کے بعد جو سونا بچ جاتا ہے، وہ رکھ سکتے ہیں۔ لیکن اس کی مقدار بہت ہی کم ہوتی ہے۔
بولیویا میں تقریباًً پینسٹھ ہزار کان کن کوآپریٹوز سے جڑے ہوئے ہیں جبکہ صرف چھ ہزار سرکاری ملازمت میں ہیں۔ لیکن چند دہائیوں قبل تک سرکاری گروپ کی تعداد کہیں زیادہ تھی۔ سرکاری کان کنوں کو حکومت تنخواہ اور طبی سہولیات فراہم کرتی ہے۔ لیکن تیپوآنی کی صورتحال کو دیکھ کر پتا چلتا ہے کہ بولیویا میں کان کنی کیسے بدلی ہے۔ کانوں کی حالت خستہ ہے۔ مزدورر دو سو میٹر تک کی گہرائی پر کام کرتے ہیں۔ ناکافی آکسیجن، خراب بنیادی ڈھانچہ اور گھپ اندھیرا۔ ایک کان کے سربراہ جیمی اولیوا کہتے ہیں کہ ایسے حالات میں ساٹھ مزدور کام کرتے ہیں۔’ہمیں کوئی سرکاری امداد نہیں ملتی۔‘ ایک مزدورر آندریس ورگاس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ یہ کانیں محفوظ نہیں، ایک مرتبہ میرے اوپر ملبے کا ڈھیر گر گیا تھا، میری قسمت اچھی تھی کہ میں بچ گیا۔ روزی روٹی کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔‘ سان ہوانیٹوں کی اس کان کے سربراہ جیمی اولیوا کہتے ہیں کہ تکنیکی معلوماتت کی کمی کی وجہ سے یہاں حاثے ہوتے رہتے ہیں۔
سونا نکالنے کا طریقہ کافی آسان لیکن خطرناک ہے۔ پہلے بارود سے چٹانوں کو توڑا جاتا ہے اور پھر اس کو پیس کر اور دھلائی کر کے اس میں سے سونا نکالا جاتا ہے۔ شفٹ ختم ہونے پر مزدوروں کو چھوٹے چھوٹے تھیلے دیے جاتے ہیں جن میں کچھ ٹوٹے ہوئے پتھر ہوتے ہیں۔ انہیں دھوکر وہ جو سونا نکال لیں، وہ ان کا ہوتاہے۔ لیکن کبھی کبھی کچھ ہاتھ نہیں لگتا۔ بولیویا میں حکام کو کوآپریٹوز میں کام کرنے والوں کے مصائب کا علم ہے۔ لیکن ان کا خیال ہے کہ حالات کو بہتر بنانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اس علاقے میں ہونے والی کان کنی کو قانون کے دائرے میں لایا جائے۔ ایک عہدیدار رابرٹو پانکوربو کہتے ہیں کہ زیادہ تر کان کنی غیر قانونی ہے۔ ہم انہیں کان کنی کے ضابطوں کے دائرے میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||