BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 May, 2008, 00:59 GMT 05:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایمیزن ریزرو:جنگل بچانے کی کوشش

برازیلی حکومت نے محفوظ علاقوں میں درخت کاٹنے پر پابندی لگا دی ہے
برازیل میں دریائے ایمیزن سے سیراب ہونے والے جنگلات کی تباہی پر عالمی تشویش دن بدن بڑھ رہی ہے اور شاید مقامی لوگوں کے احتجاج کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات کرنے کا یہ عالمی دباؤ ہی ہے جس کے سبب اب ایمیزن کے تحفظ کی کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

گزشتہ ایک عشرے میں ایمیزن کے جنگلات جس رفتار کاٹے گئے ہیں، خود برازیل میں اس ساری صورتحال پر تشویش بڑھتی جارہی ہے اور اب تو کئی علاقوں میں مقامی باشندے اس پر باقاعدہ احتجاج بھی کررہے ہیں۔

تاہم پچھلے کچھ برسوں میں برازیل کی وفاقی اور ریاستی حکومتوں نے ان جنگلات کے تحفظ کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں قدم ایمیزن کے جنگلات کے بڑے بڑے حصوں کو محفوظ علاقے یا ریزرو قرار دینا ہے۔

اب تک صرف برازیل میں ایمیزن کے ان جنگلات کے سات بڑے بڑے ٹکڑوں کو ریزرو قرار دیا جاچکا ہے جن کا مجموعی رقبہ کئی لاکھ مربع کلومیٹر بنتا ہے۔

اس عمل کی شروعات مقامی ماہی گیری کو تحفظ دینے سے ہوئی لیکن اب یہ جنگلات کے تحفظ کے تقریباً تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ ایسے ہی ایک ریزرو کے سرکاری منتظم روڈنی سنٹانا نے کہا کہ اس قدم کے مفید نتائج سامنے آئے ہیں۔

بہت سے لوگ جو ان علاقوں میں رہتے ہیں، انہوں نے پہلے ہی گھروں کے آس پاس کا علاقہ صاف کردیا تھا۔ انہیں بھی وہ طریقے بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح نہ صرف مزید درخت نہ کاٹے جائیں بلکہ صاف زمین کو اور موجودہ جنگل کو کیسے بہتر سے بہتر انداز میں استعمال کیا جائے اور ساتھ ہی کیسے کاٹے ہوئے جنگلات کی جگہ نئے درخت لگائیں۔

برازیلی ایمیزن جنگلات کے سات بڑے بڑے ٹکڑوں کو ریزرو قرار دیا جا چکا ہے

گو حکومت نے کئی علاقوں کو ریزرو تو قرار دے دیا اور وہاں رہنے والے زیادہ تر مقامی باشندے جنگلات کاٹنے پر پابندی کی پاسداری کرتے بھی ہیں لیکن وہ اس کے نتیجے میں پیش آنے والی مشکلات کا بھی تذکرہ کرتے ہیں۔

ایسے ہی ایک ریزرو میں ہماری ملاقات بیالیس برس کے ایلیاساندو ڈی سوزا سے ہوئی جو بارہ بچوں کے والد ہیں اور دو سو ایکڑ زمین پر مویشی پال کر اور کچھ کاشت کاری کرکے گزارہ کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ درخت کاٹنا زندگی کا حصہ تھا اور اب ایسا نہ کرنا کئی لحاظ سے مشکل بھی ہے۔ ویسے تو اچھا ہوتا کہ ہمیں ایسا کرنے سے روکا نہ جاتا لیکن یہ ایک طریقے سے اچھی چیز بھی ہے اور وہ اس کی پابندی کررہے ہیں۔

ایلیاساندو ڈی سوزا کے برعکس بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو ریزرو میں رہنے کو یوں ترجیح دیتے ہیں کہ انہیں شہروں میں رہنا مشکل لگتا ہے۔ اسی ریزرو ایک دوردراز حصے میں رہنے والے اوزیمار برونو وئیرا بھی ایسے ہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔ ان کا گھر ایک ایسی جگہ ہے جو اگر دریائے ایمیزن چڑھا ہوا ہو تو قریب ترین بستی سے دو ڈھائی گھنٹے کی کشتی کی مسافت پر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگل میں رہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں بڑی آسانی ہے جبکہ شہر میں نوکری نہیں ملتی اور بچے بھی محفوظ نہیں ہوتے جبکہ جنگل میں تو جو چیز چاہیے ہو، مل جاتی ہے۔

صرف برازیل ہی کیوں؟
 میہ بھی ٹھیک ہے کہ ایمیزن تباہ ہورہا ہے لیکن امریکہ اور چین کو بھی تو دیکھا جائے ، وہاں حالات زیادہ خراب ہیں۔ ان کے بارے میں تو کوئی نہیں سنتا کہ جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں، وہ انہوں نے روک دیا ہے۔ برازیل کے اوپر تو دباؤ ڈالا جا رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آخر صرف برازیل اور ایمیزن کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہے
ایلیاساندو ڈی سوزا

اوزیمار کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ تو ساری زندگی درخت ہی کاٹتے رہے ہیں اور انہوں نے اپنے باپ دادا سے یہی سیکھا ہے لیکن وہ درخت صرف ذاتی ضرورت کے لیے کاٹتے ہیں جیسے گھر بنانا ہو یا کشتی کے لیے۔ انہوں نے یہ بتایا کہ انہیں وجہ کا تو نہیں پتہ لیکن یہ معلوم ہے کہ حکومت نے درخت کاٹنے پر پابندی لگا دی ہے اور وہ اس کی پاسداری کرتے ہیں۔

برازیل میں حکام نے جنگلات کے تحفظ کے لیے ریزرو کے قیام کے ساتھ وہاں مقیم لوگوں کو درخت نہ کاٹنے اور جنگلات بچانے کی مہم میں شامل ہونے کی ترغیب دینے کا ایک خصوصی پروگرام ’بولسا فلورستا‘ کے نام سے شروع کیا ہے جس کے تحت ان ریزرو علاقوں میں مقیم ہر خاندان کو ماہانہ پچاس ریاس دیے جاتے ہیں جبکہ وفاقی حکومت بھی گھر بنانے اور ماہی گیری کے آلات خریدنے کے لیے ساڑھے نو ہزار ریاس ایک بار دیتی ہے۔

روڈنی سنٹانا کہتے ہیں کہ مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو بتایاجائے کہ جنگل کاٹے بغیر بھی فائدہ اس سے اٹھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا حکام لوگوں کو یہ سکھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ جنگل سے کئی طرح کے میوے اور پھل حاصل کر سکتے ہیں۔ کئی درختوں سے مختلف اقسام کا تیل حاصل ہوسکتا ہے اور اسی طرح کی بہت سی چیزیں۔ مختصر یہ کہ انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ محفوظ جنگل کاٹے گئے جنگل سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔

روڈنی سنٹانا کی یہ دلیل اپنی جگہ لیکن ریزرو میں رہنے والوں کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اگر بات ماحول کے تحفظ کی ہے تو صرف ایمیزن اور برازیل ہی کیوں، باقی دنیا کی ذمہ داری بھی تو ہے۔ ایلیاساندو ڈی سوزا کے مطابق’ یہ بھی ٹھیک ہے کہ ایمیزن تباہ ہورہا ہے لیکن امریکہ اور چین کو بھی تو دیکھا جائے ، وہاں حالات زیادہ خراب ہیں۔ ان کے بارے میں تو کوئی نہیں سنتا کہ جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں، وہ انہوں نے روک دیا ہے۔ برازیل کے اوپر تو دباؤ ڈالا جا رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آخر صرف برازیل اور ایمیزن کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہے‘۔

ایلیاساندو ڈی سوزا کے موقف کو ہو سکتا ہے ذمہ داری ٹالنے سے تعبیر کیا جائے لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر تحفظ ماحول کے مسئلے کا سنجیدگی سے مقابلہ کرنا ہے تو یہ بات صرف برازیل اور ایمیزن تک محدود نہیں رہ سکتی اور اس میں سب کو ہی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

 ایمیزن خطرے میںایمیزن خطرے میں
’2030 تک تیس فیصد ایمیزن جنگل کا صفایا‘
ایمیزن کے ممالککلِک ایبل گائیڈ
ایمیزن خطے میں واقع ممالک کا تعارف
ایمیزن کا سفرایمیزن کا سفر
ایمیزن، کالا دریا اور فرنینڈو
ایمیزنکپواسا سے
ایمیزن کی بستیاں اور خوشبودار پھل
ایمیزن کا آٹاایمیزن کا آٹا
درخت کی زہریلی جڑ سے غذا بنائی جاتی ہے
ایمیزن خطے کا حیاتی تنوعتصاویر میں
ایمیزن خطے کا حیاتی تنوع
دریائے ایمیزن کا سفردریائے ایمیزن کا سفر
زندگی اور موت کی ترجمانی کرتا اژدہا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد