پائلٹ والے ہائیڈوجن طیارے کی پرواز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین کی فضاؤں میں پہلی مرتبہ ایک پائلٹ کی مدد سے اڑائے جانے والے ایسے طیارے کی کامیاب آزمائشی پرواز کی گئی ہے جس میں ہائیڈروجن بطور ایندھن استعمال ہوئی ہے۔ اس طیارے کو بنانے والی کمپنی بوئنگ کا کہنا ہے کہ طیارے نے میڈرڈ میں ایک ہوائی پٹی سے مختصر دورانیے کی تین پروازیں کیں۔ ہائیڈروجن کی مدد سے اڑنے والے طیارے ماضی میں بھی کامیاب پرواز کر چکے ہیں تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ طیارے میں کوئی پائلٹ بھی موجود تھا۔ یہ چھوٹا طیارہ ہائیڈروجن فیول سیلز سے توانائی حاصل کرتا ہے اور صرف حرارت اور پانی خارج کرتا ہے۔بوئنگ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ تجربات ماحول دوست طیاروں کی ایک نئی نسل کے لیے راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ بوئنگ کے چیف ٹیکنالوجی افسر جان ٹریسی کا کہنا ہے کہ یہ پروازیں نہ صرف ’ایک تاریخی تکنیکی کامیابی‘ ہیں بلکہ ایک ماحول دوست مستقبل کی نوید بھی ہیں۔ طیارے میں استعمال کیے جانے والے فیول سیل آکسیجن اور ہائیڈروجن کے ملاپ سے بجلی پیدا کرتے ہیں جسے جہاز کے پروپحلر سے جڑی برقی موٹر چلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اڑان بھرتے وقت طیارے کی بیٹریوں کو بھی مزید قوت فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تاہم دورانِ پرواز اسے صرف فیول سیلز نے ہی توانائی فراہم کی۔ بوئنگ کا کہنا ہے کہ اس طیارے زیادہ سے زیادہ پنتالیس منٹ کی پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم تجربات میں اسے اس دورانیے سے نصف مدت کے لیے اڑایا گیا۔ اگرچہ اس طیارے کی آزمائشی پرواز کامیاب رہی ہے تاہم بوئنگ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہائیڈروجن فیول سیل بڑے مسافر طیاروں کے لیے توانائی کی فراہمی کادریعہ نہیں بن سکتے۔ تاہم انہیں بڑے طیاروں میں متبادل ذریعۂ توانائی کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ | اسی بارے میں ناریل کے تیل سے پہلی کامیاب پرواز24 February, 2008 | نیٹ سائنس حیاتی ایندھن میں کاربن اخراج کم09 January, 2008 | نیٹ سائنس ’توانائی کی مانگ میں دوگنا اضافہ‘09 November, 2007 | نیٹ سائنس ایئرشپ:جیٹ لیگ کے بغیر ہوائی سفر14 October, 2007 | نیٹ سائنس ڈیزل کی جگہ ناریل کا تیل09 May, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||