مائیکروسافٹ کی بولی، گوگل متفکر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرچ انجن گوگل نے مائیکروسافٹ کی طرف سے یاہو کو خریدنے کے لیے لگائی گئی چار کروڑ چھیالیس لاکھ کی بولی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مجوزہ ڈیل کی جانچ پڑتال کی جائے۔ گوگل کا کہنا ہے کہ مجوزہ ڈیل صارفین کی مختلف کمپنیوں کی ای میل اور مسیجنگ سروس تک رسائی کو غیر منصفانہ طور پر محدود کر سکتی ہے۔ گوگل نے الزام لگایا ہے کہ مائیکروسافٹ اس سے پہلے بھی اس نوعیت کی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ مائیکرو سافٹ نے جمعہ کے روز یاہو کو خریدنے کے لیے بولی لگائی تھی۔ یاہو کا کہنا ہے کہ وہ اس بولی پر غور کر رہا ہے۔ مائیکروسافٹ کے کیون جانسن کا کہنا ہے کہ مائیکروسافٹ اور یاہو کے انضمام سے وجود میں آنے والی کمپنی گوگل کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکے گی۔ ’آج آن لائن سرچ اور ایڈورٹائرنگ کی مارکیٹ پر بڑی حد تک صرف ایک کمپنی چھائی ہوئی ہے۔‘ تاہم گوگل کی اعلیٰ عہدے داروں نے اس خیال سے اختلاف کیا ہے۔ گوگل کے سینیئر نائب صدر برائے کارپوریٹ ڈیویلپمینٹ اور چیف لیگل آفیسر ڈیوڈ ڈرمنڈ کا کہنا ہے کہ یاہو کی خرید کے لیے مائیکروسافٹ کی بولی سے کئی تکلیف دہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک مالی سودہ نہیں ہے جس میں ایک کمپنی ایک دوسری کمپنی کو خرید رہی ہے، بلکہ اس کا تعلق کھلے پن اور ندرت جیسے انٹرنیٹ کے بنیادی اصولوں سے بھی ہے۔ مسٹر ڈیوڈ ڈرمنڈ نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ہو سکتا ہے اس سودے کے بعد مائیکروسافٹ غیر موزوں اثرورسوخ کا مظاہرہ کیا۔ یورپی کمشن نے سن دو ہزار چار میں مائیکروسافٹ پر مارکیٹ اپنی اجارہ داری سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے الزام میں انچاس کروڑ ستر لاکھ یورو جرمانہ عائد کیا تھا۔ | اسی بارے میں گوگل:نشانہ سوفٹ ویئرمارکیٹ28 August, 2006 | نیٹ سائنس سرچ انجن یا گھر کا بھیدی؟02 June, 2007 | نیٹ سائنس گوگل کوکیز کی مدت دو سال 17 July, 2007 | نیٹ سائنس 06: انٹرنیٹ صارفین اور سنسر شپ کا سال31 December, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||