’آئی سنیک‘ سے سرجری میں انقلاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہرین ایک ایسا لچکدار آلہ بنا رہے ہیں جس سے سرجری کی دنیا میں انقلاب آ سکتا ہے کیونکہ اس سے ڈاکٹروں کو ایسے پیچیدہ آپریشن کرنے میں آسانی ہو جائے گی جو ابھی تک بدن پر بڑے زخم کرنے سے ہی ممکن ہو پاتے ہیں۔ کی ہول سرجری (keyhole surgery) کا مذکورہ نیا آلہ بنانے کے لیے لندن کے امپیرئل کالج کے ماہرین کو اکیس لاکھ پونڈ کی امداد دی گئی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ نیا آلہ ’آئی سنیک‘ یا سانپ کی شکل کی ایک طویل ٹیوب پر مشتمل ہوگا جو ایک خاص قسم کی موٹر، جسم کے اندر کا منظر دکھانے والے آلے اور سینسرز سے لیس ہوگا۔ اس آلے سے دل کے بائی پاس آپریشن کرنے میں بہت آسانی کی توقع ہے، تاہم اس سے پیٹ اور انتڑیوں کے امراض کی تشخیص میں بھی مدد ملے گی کیونکہ یہ وہاں تک پہنچ سکے گا جہاں ڈاکٹر کی آنکھ یا انگلیاں نہیں پہنچ پاتیں۔ امپیرئل کالج کی ٹیم میں برطانیہ کے وزیر صحت اور سرجن لارڈ آرا درزی بھی شامل ہیں اور ٹیم کا کہنا ہے کہ مریضوں پر استعمال کرنے سے پہلے اس آلے کو لیبارٹری میں ٹیسٹ کیا جائے گا۔ ایسے آپریشن جن میں زیادہ چیر پھاڑ نہ ہو، ان کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ مریض کے جسم پر زخم چھوٹے ہوں گے، مریض کو ہسپتال میں کم وقت کے لیے رُکنا پڑے گا اور آپریشن کے بعد صحتمند ہونے میں وقت بھی کم لگے گا۔ بلکہ سرجنوں کی کوشش ہے کہ کوئی ایسا طریقہ دریافت کیا جائے جس سے مریض کی جِلد کو کاٹے بغیر ہی آپریشن کر لیا جائے۔ سرجن لارڈ درزی کا کہنا تھا کہ ’ آئی سنیک میں لگے ہوئے آلات، خاص طور اس کے جسم کے پرپیچ حصوں تک پہنچنے اور انہیں محسوس کرنے کی صلاحیت سے ہمیں پیچید مرائض کی تشخیص اور انکے آپریشن کرنے میں بہت مدد ملے گی۔‘ اس سلسلے میں طبعی تحقیق کے ایک ادارے ’ویلکم ٹرسٹ‘ کے ڈائریکٹر ٹیکنالوجی ڈاکٹر ٹیڈ بیانکو کا کہنا تھا کہ ’ وہ دن ختم ہو گئے جب سرجن کی چھُری آپریشن تھیٹر میں راج کرتی تھی۔ جراہت کا مستقبل آئی سنیک جیسے سمارٹ آلات کے ہاتھ میں ہے۔‘ |
اسی بارے میں امراض قلب: بلڈ پریشرسے تشخیص11 November, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||