دریائے ایمیزان تیر کر عبور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سلوینیا کے باشندے مارٹن سٹیل نے پانچ ہزار دو سو پینٹسھ کلو میٹر لمبے ایمیزان دریا کو تیر کر عبور کر لیا ہے۔ باون سالہ مارٹن سٹیل چھیاسٹھ دن تک دریائے ایمیزان میں مگرمچھوں اور پرانیا مچھیلوں سے بھرے دریائے امیزان میں تیرتے رہے۔ مارٹن سٹیل نے، جو اوسطً روزانہ 52 میل تیرتے تھے، شیڈول سے چار روز پہلے ہی اپنا سفر مکمل کرکے دنیا کے پہلے شخص بن گئے ہیں جنہوں نے دنیا کے سب سے بڑے دریا کو تیر کر عبور کیا۔ دریائے ایمیزان دنیا کاسب سے بڑا دریا ہے اور لمبائی میں دریائے نیل کے بعد اس کا دوسرا نمبر ہے۔ مارٹن سٹیل نے ڈاکٹروں کی ہدایت کے خلاف اپنے تیراکی کے سفر کو جاری رکھا اور جب وہ اپنی منز ل پر پہنچے تو مارٹن سٹیل سن سٹروک، ڈائیریا اور متلی کی کیفیت میں مبتلا تھے۔ مارٹن سٹیل اس سے پہلے دریائے مسسپی، دریائے ینگتز اور دریائے دنوبی کو تیر کر عبور کر چکے ہیں۔ دریائے ایمیزان دنیا کی سب سے خطرناک مچھلی بل شارک، مگرمچھ اور اناکونڈا سانپوں کی آماجگاہ ہے۔دریائی لہروں کے علاوہ امیزان کے قزاق بھی بہت شہرت رکھتے ہیں۔ مارٹن سٹیل کے بیٹے بورت نے کہا کہ ان کے والد اپنے سفر کو مکمل کر چکے ہیں اوراتوار کے روز ان کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی جائے گی مارٹن سٹیل نے کہا کہ دریائے امیزان کے جانوروں نے انہیں قبول کر لیا تھا اور وہ شاید سمجھتے ہیں کہ وہ ان میں سے ہیں۔ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے کہا کہ وہ چند ہفتوں بعد مارٹن سٹیل کے ریکارڈ کی تصدیق کرے گا۔ | اسی بارے میں ایمیزون جنگلات کی ریکارڈ کٹائی19 May, 2005 | آس پاس ایورسٹ سر کرنے کا نیا عالمی ریکارڈ21 May, 2004 | نیٹ سائنس طویل ترین پرواز کا عالمی ریکارڈ12 February, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||