مریخ، ایک بڑی دریافت کے قریب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کی مریخ کی سطح پر تحقیق کرنے والی گاڑی، اوپرچونیٹی اپنے تحقیقی مشن کی سب سے اہم دریافت تک پہنچنے والی ہے۔ اگلے دو ہفتوں میں تحقیقاتی مریخ گاڑی سیارے کی سطح پر پڑے ایک ایسے بڑے گڑھے کے کنارے پہنچنے والی ہے جس سے زیادہ گہرے اور چوڑے گڑھے تک یہ گاڑی اپنے مریخ کی سطح پر ڈھائی سال کے قیام کے دوران کبھی نہیں گئی تھی۔ وکٹوریا کریٹر نامی اس گڑے کی اندرونی دیواروں میں نظر آنے والے پتھر سرخ سیارے مریخ کی ارضیاتی تاریخ میں ماہرین کے لیئے ایک نیا دریچہ کھول سکتے ہیں۔ ’اوپر چونیٹی‘ نامی یہ مریخ گاڑی مریخ سے جنوری 2004 سے سیارے کی ساخت کے بارے میں مفید معلومات بھیج رہی ہے۔ اوپرچیونٹی کی جڑواں گاڑی ’سپرٹ روور‘ سرخ سیارے کی دوسری جانب ’گوسیو کریٹر‘ نامی گڑھے سے تحقیقی معلومات جمع کرنے میں مصروف ہے۔ ان دو مریخ گاڑیوں سے ملنے والی معلومات کے نائب تجزیہ کار اعلیٰ رے آروڈسن کا کہنا ہے کہ وکٹوریا کریٹر کے پتھروں کا جائزہ لینے سے ہمیں ماضی میں اس سیارے کے مختلف ادوار جاننے میں مدد لے گی جس میں پانی کا کردار بھی شامل ہے۔ مسٹر آروڈسن نے مزید کہا ’خاص طور پر ہم یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ کیا یہ پتھر ایسی شہادتیں دے رہیں ہیں کہ ان کی ساخت پر کم گہرائی والی جھیلوں کے اثرات ہیں؟ مریخ کی سطح کا سروے کرنے والے خلائی جہاز نے وکٹوریا کریٹر کی دیواروں میں ایک ایسا تہہ در تہہ پتھر دریافت کیا ہے جس کی مٹائی 30 سے 40 میٹر ہے۔ کیلیفورنیا میں ناسا کی جیٹ پروپیلشن لیبارٹری کے مینیجر بائیرون جونز کہتے ہیں’ہمارے پاس ایک ایسی مریخ گاڑی ہے جس کےتمام آلات کام کررہے ہیں اور ہم وکٹوریا کریٹر پر اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ تحقیق شروع کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔‘ مریخ پر اپنے پہلے دو ماہ کے دوران مریخ گاڑی ’اوپرچیونٹی، نے ’ایگل کریٹر‘ کے اندر ایک ایسے 30 سینٹی میٹر موٹے تہہ دار پتھروں کے ڈھیر کا تجزیہ کیا تھا جہاں سے ایسے شواہد ملے تھے کہ مریخ پر ہزاروں سال قبل پانی بہا کرتا تھا۔ مریخ گاڑی نے اس کے بعد نو ماہ ایک اور بڑے گڑھے ’اینڈیورنس‘ تک سفر اور اس کے تجزیے میں صرف کئیے۔ پروفیسر آورڈیسن نے کہا ہے کہ مریخ گاڑی کے انڈیورنس سے وکٹوریا کریٹر تک کے سفر کے دوران ملنے والے پتھر اتھلی جھیلوں، جگہ تبدیل کرنے والے ریت کے ٹیلوں کے خشک دور اور مریخ پر پانی کی اترتی چڑھتی سطح کی تاریخ بیان کرتے ہیں۔ مٹی کے تجزئے نے ظاہر کیا ہے کہ مریخ کی سطح پر بہنے والا پانی خاصہ تیزابی تھا۔ پروفیسر آرڈیسن نے مزید کہا ہے کہ اس مشن کے سائنسداں اب تک ملنے والے پتھروں اور وکٹوریا کریٹر کے پتھروں کا موازنہ کرکے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا ان کو تخلیق کرنے کے حالات مختلف تھے یا نہیں۔ | اسی بارے میں سرخ سیارہ مریخ زمین کےقریب آگیا15 November, 2005 | نیٹ سائنس مریخ کی پہلی تصاویر موصول 26 March, 2006 | نیٹ سائنس مریخ کا روبوٹ مزید خود کار29 May, 2006 | نیٹ سائنس مریخ پر مٹی و ریت کے فوارے21 August, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||