فربہ لوگوں کی تعداد میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی پروفیسر بیری پاپکن نے کہا ہے کہ پوری دنیا کے امیر اور غریب ممالک کے لوگوں میں وزن کو بڑھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ امریکی پروفیسر نے انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف اگریکلچرل اکنامکس کو بتایا کہ کم وزن والے لوگ دنیا میں اسی کروڑ ہیں جبکہ موٹے لوگوں کی تعداد ایک ارب ہو گئی ہے۔ پروفیسر بیری نےآسٹریلیا کی کانفرنس کو بتایا کہ اس کی وجہ خوراک میں تبدیلی اور ورزش نہ کرنا ہے۔ یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا کے پروفیسر بیری نے یہ بھی کہا کہ انسانوں کے انفرادی وزن بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں جبکہ بھوک اتنی تیزی سے کم نہیں ہو رہی ہے۔ پروفیسر نے کانفرنس کو یہ بھی بتایا کہ بہت ملکوں میں موٹاپاایک بیماری نہیں رہا اور کم ملک اس کی طرف توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موٹاپے سے پیدا ہونے والی بیماریاں اب صرف شہروں کےامیروں میں نہیں رہیں بلکہ اب یہ دیہی علاقوں کے غریبوں میں بھی آ گئی ہیں۔ پروفیسر بیری نے کہا کہ اس کی مثال چین ہے۔ جس کے لوگ سیریل کھانے کی بجائے اینیمل پراڈکٹس کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اور وہاں آٹومیٹک ٹرانسپورٹ اور ٹی وی دیکھنےمیں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پروفیسر نے حکومتوں سے درخواست کی کہ وہ اس مسئلے کا حل تلاش کریں۔ اس سلسلے میں وہ کھانے کی چیزوں کی قیمتوں میں ردوبدل کر کے لوگوں کو صحت مند کھانے کی طرف راغب کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر سوفٹ ڈرنک کی ہر کیلوری کے حساب سے اس کی قیمت وصول کی جائے تو لوگ ان کا استعمال کم کر دیں گے۔اگر پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں کم کر دی جائیں تو لوگ ان کا استعمال زیادہ کر دیں گے۔ اس طرح صحت افزا خوراک میں اضافہ ممکن ہو گا۔ | اسی بارے میں انڈین ویٹ لفٹروں پر تاحیات پابندی10 April, 2006 | کھیل موٹے افراد وزن کم کرنا نہیں چاہتے09 January, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||