BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 April, 2006, 10:06 GMT 15:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مثانے کا انقلابی ٹرانسپلانٹ
مثانہ
یہ مثانہ تجربہ گاہ میں پروسس کیا گیا ہے
امریکی سائنسدانوں نے کامیابی کے ساتھ مثانے کے امراض میں مبتلا افراد میں ایسے مثانے ٹرانسپلانٹ کردیئے ہیں جنہیں تجربہ گاہ میں مریضوں کے اپنے خلیوں سے بنایا اور پروان چڑھایا گیا ہے۔

نارتھ کیرولائنا کی چیک فارسٹ یونیورسٹی میں ماہرین نے ایسے سات مریضوں میں مثانے ٹرانسپلانٹ کیئے ہیں اور ان میں سے کچھ افراد میں یہ ٹرانسپلانٹ کردہ عضو اگلے چند سالوں کے دوران بالکل صحیح کام کررہا ہے۔

یہ تحقیق امریکی جریدے دی لینسٹ میں شائع کی گئی ہے اور اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔

اب ماہرین کی یہ ٹیم دیگر انسانی عضلات مثلاً دل وغیرہ کو بھی اسی طریقہ کار سے تجربہ گاہ میں پروسس کرکے ٹرانسپلانٹ کرنے پر کام کررہی ہے۔

مثانے کے امراض سے مثانے میں دباؤ بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں گردے کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

عموماً ایسے مسائل کی صورت میں ایک خاص طرح کی سرجری کی جاتی ہے تاہم اس آپریشن کے اپنے نقصانات ہیں۔

ٹیم میں شامل ڈاکٹر اینتھونی اٹالہ کا کہنا ہے کہ انسانوں میں خراب ہوجانے والے ٹشو اور دیگر عضلات کی منتقلی کی راہ میں یہ پہلا قدم ہے۔

عام طور پر جو سرجری کی جاتی ہے اس میں مریض کے اپنے معدے یا آنت سے ٹشو لیئے جاتے ہیں جنہیں خراب شدہ ٹشو کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ مثانے کا نظام درست کیا جاسکے۔ اس طریقہ کار سے گردہ کے نظام کی خرابی سے بچا جاسکتا ہے تاہم کینسر سمیت دیگر کئی مسائل کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

جن مریضوں میں جدید طریقے سے ٹرانسپلانٹ کیا گیا ہے انہیں کمزور مثانے کی شکایت تھی۔ ماہرین نے ہر مریض کے مثانے سے خلیوں کے نمونے لیئے اور پھر تجربہ گاہ میں انہیں پروان چڑھایا۔ جس کے بعد انہیں خراب ٹشوز سے تبدیل کردیا گیا۔

اس ٹرانسپلانٹ کے بعد پانچ سال تک مریضوں کے نظام کو زیر تجزیہ رکھا گیا ہے۔ ان میں سے کئی مریض تو بالکل صحتمند ہوچکے ہیں اور ان کے مثانے کا نظام مکمل طور پر صحیح کام کررہا ہے۔

اب سائنسدان اسی طریقے سے انسانی عضلات کے بیس مختلف ٹشو تجربہ گاہ میں پروان چڑھا رہے ہیں تاکہ دیگر امراض کا بھی اسی طرح کامیاب علاج ممکن ہوسکے۔

اسی بارے میں
سٹم سیلز کی تحقیق کا معرکہ
20 May, 2005 | نیٹ سائنس
کم نیند، جگر کےامراض
28 May, 2005 | نیٹ سائنس
زیتون کے استعمال سے درد غائب
04 September, 2005 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد