چار ’ٹانگوں‘ پر چلنے والے انسان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد جو صرف اور صرف دونوں ٹانگوں اور بازووں پر چل سکتے ہیں، سائنسدانوں کے لیئے انسانی ارتقاء کے نظریے کے بارے میں اہم معلومات کا باعث بن سکتے ہیں۔ برطانیہ کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ اس خاندان کی تین بہنیں اور دو بھائی جوکہ جانوروں کی مانند چلتے پھرتےہیں، ہماری معلومات میں اہم اضافہ کرسکتے ہیں کہ انسانوں نے قدیم دور میں ’چار ٹانگوں‘ والی مخلوق سے ’دو ٹانگوں‘ والے آج کے انسان تک کا سفر سائنسی طور پر کیسے طے کیا۔ تاہم پروفیسر نکولس ہمفرے نے اس خیال کو رد کردیا ہے کہ دو ٹانگوں پر چلنے کے پیچھے ایک خاص ’جین‘ کارفرما ہے۔ بی بی سی ٹی وی پر اس خاندان کے بارے میں ایک دستاویزی پروگرام 17 مارچ کو نشر کیا جائے گا۔ پروفیسر نکولس کا کہنا ہے کہ چار ٹانگوں سے دو ٹانگوں کے انسان کی تبدیلی ایک پیچیدہ عمل تھا۔ دوسری جانب جرمنی کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ ترکی کے اس خاندان کے یوں چلنے کی وجہ ایب نارمل یا غیر معمولی جین ہے۔ اس خاندان کی دو بہنیں اور ایک بھائی تو صرف اور صرف چار ’ٹانگوں‘ پر ہی چل سکتے ہیں لیکن ایک بھائی اور ایک بہن بہت کم دورانیے کے لیے کبھی کبھار دو ٹانگوں پر بھی چل لیتے ہیں۔ یہ پانچ بہن بھائی اپنے والدین اور تیرہ دیگر بہن بھائیوں کے ساتھ رہتے ہیں اور یہ ایک طرح کے ’دماغی نقص‘ کے ساتھ پیدا ہوئے تھے۔ پروفیسر ہمفرے کہتے ہیں کہ ان افراد کی چال میں، چار ٹانگوں پر چلنے والے گوریلوں اور چمپینزیز کی نسبت بہت فرق پایا جاتا ہے اور ان میں زیادہ مماثلت نہیں ہے۔ یہ خاندان ترک کے ایک دور دراز علاقے میں رہتا ہے اور یہ تین بہنیں اپنے ہاتھوں سے کروشیا بننے جیسا باریک کام بھی کرلیتی ہیں۔ | اسی بارے میں گوریلوں میں اوزار کااستعمال 02 October, 2005 | نیٹ سائنس قطب شمالی کی برف میں کمی29 September, 2005 | نیٹ سائنس وھیل شارک کی زندگی کے راز25 September, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||