سونی پلے سٹیشن کو قانونی دھچکا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک آسٹریلوی بزنس مین ایڈی سٹیونز نے، جو سونی پلے سٹیشن میں ترمیم کرنے کے الزام میں چار سال سے مقدمے بھگت رہا تھا، اب یہ قانونی جنگ جیت لی ہے۔ سڈنی میں آسٹریلوی ہائی کورٹ کے جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ گیمز کی پائریسی یا چوری تو یقیناً غیر قانونی ہے لیکن پلے سٹیشن میں ایسی ترمیم کرنے میں کوئی حرج نہیں جس سے اس پر سستی گیمز چلائی جا سکیں۔ سونی گیمز کی قیمت مختلف ممالک میں ایک جیسی نہیں ہوتی۔ لیکن ہر سونی پلے سٹیشن میں علاقائی کوڈنگ رکھی جاتی ہے جس کی وجہ سے اس پر باہر سے خریدی گئی گیمز نہیں چل سکتیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے آسٹریلیا میں رہنے والا پلے سٹیشن کا ایک صارف آسٹریلیا ہی سے گیمز خریدنے پر مجبور تھا حالانکہ انٹرنیٹ پر یا دوسرے ملکوں میں وہی گیمز کہیں سستے داموں دستیاب ہوتی ہیں۔ ایڈی سٹیونز کا کاروبار ہی یہ تھا کہ وہ پلے سٹیشن مشین میں لگی علاقائی کوڈنگ کو بائی پاس کر دیتا تھا جس کے بعد اس میں کہیں سے بھی خریدی گئی گیمز چلائی جا سکتی تھیں۔ پاکستان میں بھی ایسی ٹیکنالوجی آسانی سے دستیاب ہے جس کی بدولت غیرممالک سے خریدی ہوئی پلے سٹیشن مشینوں کی کوڈنگ کو ناکارہ بنا کر ان پر پائریٹڈ یا چوری شدہ گیمز چلائی جا سکتی ہیں۔ آسٹریلوی عدالت کے اس فیصلے کے بعد پائریٹڈ گیمز کے استعمال کو تو تحفظ حاصل نہیں ہوگا مگر دوسرے ملکوں میں بھی علاقائی کوڈنگ کو بائی پاس کرنے کا رواج بڑھ سکتا ہے اور ہو سکتا ہے سونی کو دنیا بھر میں اپنی گیمز کی قیمتیں از سر نو متعین کرنا پڑیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||