 |  ایپل نے حال ہی میں ایک بہت سستا اور چھوٹا کمپیوٹر ’منی میک‘ ریلیز کیا ہے۔ |
ایپل کمپنی نے انُ تین بلاگرز کے خلاف مقدمہ جیت لیا ہے جن پر الزام تھا کہ انہوں نے ایپل کی غیر ریلیز شدہ پروڈکٹس کے بارے میں معلومات انٹرنیٹ پر جاری کردی تھیں۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق اب ایپل کمپنی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان بلاگرز کو مجبور کرسکے کہ وہ اُن ذرائع کو ظاہر کریں جن کے ذریعے انہوں نے ایپل کی پروڈکٹس کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں۔ یہ مقدمہ ایک طرح سے انٹرنیٹ پر آزادیِ اظہار اور حکومتی عمل دخل کے تناظر میں خاصی اہمیت اختیار کرگیا تھا۔ اس سے پہلے عدالت نے اپنے ابتدائی فیصلے میں کہا تھا کہ انٹرنیٹ پر ڈائریاں یا بلاگ لکھنے والے بلاگرز کو صحافیوں جیسے حقوق نہیں دئیے جاسکتے۔ تینوں بلاگرز کے وکلا نے اس فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے ایک بہت ’خطرناک‘ مثال قائم ہوگئی ہے جو صحافیوں کے لئے بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ کیلی فورنیا کے جج نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ اِس مقدمے میں بلاگرز کے صحافی ہونے یا نہ ہونے کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کیونکہ کسی بھی کمپنی کے تجارتی راز یا معلومات صحافی بھی ظاہر نہیں کرسکتے۔ ایپل کمپنی اپنی پروڈکٹس کے بارے میں معلومات کو بہت زیادہ چھُپا کر رکھتی ہے لیکن کئی لوگوں میں دیوانگی کی حد تک مقبول اسِ کمپنی کی پروڈکٹس کے بارے میں بہت سے ویب سائٹس مختلف معلومات چھاپتی رہتی ہیں۔ انِ تینوں بلاگرز پر بھی یہی الزام تھا کہ انہوں نے اپنے بلاگز میں ایپل کے کئی پروڈکٹس کے بارے میں معلومات ان کے ریلیز ہونے سے پہلے ہی جاری کردی تھیں۔ |