فضائی صنعت پر ’بھارا‘ وقت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک رپورٹ کے مطابق امریکی فضائی صنعت کے منافع کو ایک ’بھاری‘ خطرہ لاحق ہے اور وہ ہے ضرورت سے زیادہ وزنی مسافروں کا۔ یو ایس سینٹرز فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق 1990 کی دہائی میں اوسطاً ایک امریکی کا وزن 4.5 کلوگرام بڑھا ہے۔ اس وجہ سے ائیرلائنز کوسن 2000 میں جہازوں کے تیل کے ایندھن پر 275 ملین ڈالر زیادہ خرچہ کرنا پڑا۔ سکیورٹی کے مسائل اور خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کی وجہ سے فضائی صنعت پہلے ہی بڑے دباؤ میں ہے۔ امریکہ میں کئی ایئرلائنز دیوالیہ ہو گئی ہیں جبکہ کئی ایک اپنے آپ کو بچانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں۔
کسی بھی مسافر کے سامان کا وزن کرنا اور پھر زیادہ وزنی سامان والے کو اس کا معاوضہ ڈالنا ایک آسان کام ہے لیکن یہ بہت مشکل ہے کہ کسی بھی مسافر کی کمر کے گھیرے کو قوانین یا پابندیوں کے تابع بنایا جائے۔ کئی ایک کمپنیوں نے سوچا کہ موٹے مسافروں سے دو سینٹوں کے پیسے لیے جائیں لیکن پھر یہ خیال رد کر دیا گیا۔ امریکہ اور یورپ میں بڑھتے ہوئے موٹاپے کا ذمہ کئی فوڈ کمپنیوں کر گردانہ گیا ہے اور ان پر بہت تنقید کی گئی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر نزلہ میکڈونلڈ پر گرا ہے۔ اس کے بعد سے میکڈونلڈ نے اپنا مینو بدل کر صحت بخش کھانے اس میں شامل کیے ہیں۔ اس قدم سے میکڈونلڈ کا منافع بھی بڑھا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||