ڈی این اے کا راز پانے والے کا انتقال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نوبیل انعام یافتہ فرانسس کرِک جنہوں نے جمیز واسٹن کے ساتھ ملکر ڈی این اے کی ساخت معلوم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، جمعرات کو اٹھاسی سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ فرانسس بڑی آنت کے سرطان میں مبتلا تھے۔ ان کا انتقال امریکی شہر سین ڈیاگو کے تھارنٹن ہسپتال میں ہوا۔ برطانیہ میں پیدا ہونے والے فرانسس نے انیس سو تریپن میں کیمرج یونیورسٹی میں ڈی این اے کی ساخت پر تحقیق کی تھی جس پر انیس سو باسٹھ میں انہیں نوبیل انعام دیا گیا تھا۔ ڈی آکسی رائبونیوکلک ایسڈ (ڈی این اے) کسی جاندار خلیے میں موجود وہ مادہ ہے جو موروثی خواص کا حامل ہوتا ہے۔ یہ خلیے کے مرکز میں پایا جاتا ہے۔ جاندار خلیوں کے جینز میں ڈی این اے زنجیر کی کڑیوں کی شکل میں پایا جاتا ہے اور اس کی ترتیب اس جاندار کے موروثی خواص کا تعین کرتی ہے۔ مثلاً کسی انسان کے خلیوں میں اس کے والدین کے خواص ڈی این اے کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں اور والد اور والدہ کے ڈی این اے کے ملنے سے نئے جسمانی خواص بھی پیدا ہوتے ہیں جو ایک فرد کو دوسرے سے جدا کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ سگے بہن بھائی خاصی مماثلت کے باوجود ایک دوسرے سے کسی نہ کسی اعتبار سے مختلف ہوئے ہیں۔ یہ اختلاف ڈی این اے کی کارستانی ہی ہے۔
ایک فرد کا ڈی این اے دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کسی فرد کی قانونی شناخت کی جاتی ہے۔ پروفیسر فرانسس کرِک اور جیمز واسٹن نے ڈی این اے کی ساخت کے بارے میں اپنے مکالے میں بتایا تھا کہ یہ دو رنجیروں کی شکل میں ہوتا ہے اور یہ زنجیریں ایک دوسرے سے لپٹی ہوئی ہوتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||