ماں کا دودھ، موٹاپے میں کمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں کی گئی تحقیق کے دوران ماں کے دودھ میں ایک ایسے پروٹین کی موجودگی کا پتہ چلا ہے جو بچے کو موٹاپے سے بچانے میں مددگار ہوتی ہے۔ سِنسناٹی چلڈرن ہاسپیٹل کی ایک ٹیم نے پتہ چلایا ہے کہ مذکورہ پروٹین بدن میں چربی کو ختم کرنے کا عمل انجام دیتی ہے۔ ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ ماں کے دودھ میں اس پروٹین کی موجودگی آئندہ عمر میں بچے میں موٹاپے کو روکنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے پہلی مرتبہ ماہ کے دودھ اور خوراک کے جزو بدن بننے کے عمل کے مابین تعلق کا پتہ چلا ہے۔ ڈاکٹر لیزا مارٹن اور ان کی جماعت کو ماں کے دودھ میں ایڈیپونکٹین نامی یہ پروٹین وافر مقدار میں ملی ہے۔ موٹاپے، ٹائپ ٹو ذیابیطس، انسولین کی مزاحمت اور دل کی شریانوں کی بیماری کے اسباب میں سے ایک سبب بدن میں اس پروٹین کی کمی بھی تصور کی جاتی تھی۔ جبکہ جسم میں ایڈیپونکٹین کی زیادہ مقدار کا مطلب بیماری کی کمی لیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر مارٹن کہتی ہیں: ’ابتدائی عمر میں جب بچے کی نشو و نما تیزی سے ہو رہی ہوتی ہے اس وقت ایڈیپونکٹین پروٹین کا وافر مقدار میں ملنا بڑی عمر میں بیماری سے بچاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔‘ مذکورہ ٹیم کو ماں کے دودھ میں لیپٹن نامی ایک اور پروٹین بھی ملی ہے جو جسم میں موجود چربی کو قابو میں رکھتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||