ای بے پر ’ای گرل فرینڈ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
من چاہی عورت کا کیا مول ہے؟ ای بے پر، جو آن لائن نیلام کی ویب سائٹ ہے، شاید تیس برطانوی پاؤنڈ میں آپ کے من کی مراد پوری ہوجائے گی۔ مجھے یہ اندازہ اس وقت ہوا جب میں نے خود کو ای بے پر ایک مجازی سہیلی یا ورچؤل گرل فرینڈ کے طور پر پیش کیا۔ یعنی ایک ایسی دوست جو جسمانی قربت کے لحاظ سے تو کوسوں دور ہو مگر انٹرنیٹ کے ذریعے لامتناہی فاصلوں کو پھلانگ کر آپ کی جذباتی آسودگی کا باعث بن سکے۔ یہ خیال سب سے پہلے امریکہ میں ایک قلاش طالبہ کو آیا اور پھر فروغ پاتا چلا گیا۔ وہ مرد جو اپنی مصروفیت، سُستی یا شرما شرمی میں کسی لڑکی سے دل کا حال کہنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے ان کے لئے مجازی سہیلیاں تعلقات کا ایک بے بہا خزانہ لیے ہوئے ہوتی ہیں۔ اس عمل میں ای میل، ٹیکسٹ میسج، آن لائن گپ شب، ڈیجیٹل تصاویر حقیقی وصال اور دیدار کی کلفتوں کو بھگا دیتی ہیں۔ بائیس سالہ کیلی جس پر پانچ بولیاں لگیں اور اس کی ’محبت‘ پچیس پاؤنڈ میں فروخت ہوئی کہتی ہیں: ’میں نے پیشکش کی تھی کہ کسی کو جلانے، جان کو آنے والی سے جان چھڑانے یا پھر ویسے ہی اپنی خوشی کے لئے میری خدمات حاصل کریں۔‘ میری بولی ننانوے پینس سے شروع ہوئی۔ میں نے اپنی ایک اچھی سی تصویر ویب سائٹ پر چسپاں کی اور عنوان دیا: ’پیار کی تلاش ہے؟ میں تمھاری ای گرل فرینڈ بنوں گی۔‘ مزید تفصیل میں لکھا کہ دو ہفتوں کے اس تعلق کے دوران، جو سب سے بڑی بولی دینے والے سے قائم ہوگا، میں یومیہ ایک ٹیکسٹ میسج، ایک دن چھوڑ کر ایک ای میل، ایک ہاتھ سے لکھا ہوا خط اور چند ڈیجیٹل تصاویر ارسال کروں گی۔ لیکن جذبوں کے نیلام میں کوئی درجن بھر دوسری لڑکیاں بھی میری مدمقابل ہیں۔ ان میں سے کئی میرے مقابلے میں زیادہ تیز ہیں۔ کسی نے اپنی عریاں یا نیم عریاں تصویر ارسال کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے اور کسی نے تو کامیاب بولی دینے والے خوش نصیب کو اپنے زیرجامہ کا چھیتڑا بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔ چوبیس گھنٹے کے اندر مجھے دس بولیاں موصول ہوئیں۔ پانچویں روز میری ویب سائٹ پر دوہزار افراد آ چکے تھے، بولیوں کی تعداد بیس ہو چکی تھی اور بولی کی قیمت بڑھتے بڑھتے پچاس پاؤنڈ ہو چکی تھی۔ تاہم یہ سلسلہ اچانک بند کر دیا گیا اور مجھے ایک ای میل موصول ہوئی جس میں کہا گیا کہ ذاتی تعلقات کی (چاہے حقیقی ہوں یا مجازی) اجازت نہیں ہے۔ لیکن ایسا سب کے ساتھ نہیں پیش آیا۔ کئی لڑکیاں اب بھی ویب پر نیلامی کے لئے موجود ہیں۔ ویسے مجھے اس سے ایک گونہ سکون ملا کہ میرا نام نیلامی کی فہرست سے خارج ہوگیا ہے۔ لیکن مجھے اٹھارہ سالہ کورٹنی اور اکیس سالہ سمانتھا کی فکر ہے۔ کورٹنی کی تصویر قمیض اتارتے ہوئے اس عبارت کے ساتھ چسپاں ہے: ’یونیورسیٹی بہت مہنگی ہے، اس پر فیس، کتابیں اور کھانے پینے کے اخراجات۔ ان سب کے لئے کچھ تو کرنا پڑے گا۔‘ سمانتھا کی قمیت ایک سو پاؤنڈ لگی ہے اور تادم تحریر کوئی بولی نہیں لگی۔ اس کی تصویر کے ساتھ عبارت کہتی ہے: ’میں نرسری سکول کی استانی بننے کی تربیت لے رہی ہوں۔ مگر اس وقت میرے پلے کوئی رقم نہیں ہے۔ میں اپنی فیس ادا کرنے کے لئے ہر ممکن کام کرنے کو تیار ہوں۔‘ محبت جیسی انمول شے کا مول اتنا کم، حیراں ہوں یہ نیلام کب تک چلے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||