گمشدہ خلائی روبوٹ ’فیلے‘ کا سراغ مل گیا

،تصویر کا ذریعہOther
یورپی خلائی ادارے کی طرف سے دم دار ستارے پر بھیجی جانے والے خلائی روبوٹ ’فیلے‘ کا سراغ مل گیا ہے۔
روزیٹا مشن سے ڈاؤن لوڈ کی جانے والی تازہ ترین تصاویر میں ایک چھوٹا سا روبوٹ صاف دکھائی دے رہا ہے۔
یورپی خلائی ادارے کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انھیں خلائی گاڑی کی شناخت کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے۔
فیلے کو روزیٹا مشن سے دم دار ستارے پر 2014 میں اتارا گیا تھا لیکن زمین سے اس کا رابطہ بیٹری ختم ہونے کی وجہ سے 60 گھنٹے کے بعد ہی منقطع ہو گیا تھا۔
اگرچہ اس نے زمین پر تصویریں اور اپنی لوکیشن کے بارے میں ڈیٹا بھیجا تھا لیکن خلائی روبوٹ کی اصل جگہ ابھی تک ایک معمہ رہی ہے۔
خیال کیا جا رہا تھا کہ خلائی روبوٹ ’فیلے‘ اترنے والی جگہ سے اچھل کر ایک تاریک گڑھے میں گِر گئی ہے۔ اب تازہ ترین تصویروں سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے جو دم دار ستارے سے دو اعشاریہ سات کلو میٹر کی دوری سے لی گئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPA
روزیٹا مشن کی ہائی ریزولیوشن کیمرے سے لی گئی تصویریں زمین پر اتوار کی رات کو ڈاؤن لوڈ کی گئی تھیں اور ان کو ابھی ابھی تیار کر کے جاری کیا گیا ہے۔
روبوٹ نے روزیٹا مشن کی اس جگہ کا پہلے بھی جائزہ لیا تھا لیکن اسے اس سلسلے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔اس وقت اس کے وہاں موجود ہونے کے بارے میں کچھ شواہد ملے تھے لیکن اس بارے میں کوئی تسلی بخش بات سامنے نہیں آئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پہلے کی نسبت اب فرق یہ ہے کہ ایک تو تصویریں قریب سے لی گئی ہیں جبکہ دم دار ستارے پر موسم بدل چکا ہے اور فیلے کے چھپنے کی جگہ بہتر طور پر روشن ہے۔
یہ نئی دریافت اس وقت سامنے آئی ہے جب خلائی ماہرین چند ہفتوں میں روزیٹا کو دم دار ستارے پر گرا کر مشن کو باقاعدہ طور پر ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اگرچہ خلائی روبوٹ ’فیلے‘ کے دوبارہ کارآمد ہو جانے کے بارے میں کوئی امید نہیں ہے لیکن اس کی صحیح جگہ کے بارے میں معلومات سے 2014 سے اب واپسی کے سفر کے دوران تین دن کے اندر بھیجے گئے ڈیٹا کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔







