’بائی پولر ڈس آرڈر کا شکار اسٹیبلشمنٹ‘

،تصویر کا ذریعہepa
- مصنف, طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
سوشسلتان میں اس ہفتے سارے لوگ حب الوطنی پرکھنے کے آلے کے طور پر کام کرتے رہے۔ کون حب الوطن ہے اور کون نہیں اور جو ’پاکستان زندہ باد کا نعرہ‘ نہیں لگائے گا اس کا کیا بنے گا؟
ملک کے ایک معروف ٹی وی چینل کے رپورٹر نے براہِ راست نشریات میں ایم کیو ایم کے رہنما سے سوال کی ا کہ کیا آپ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگائیں گے؟ مگر چلتے ہیں اس ہفتے کے سوشلستان کی طرف جہاں بڑے اہم موضوعات پر بحث جاری رہی۔
اے آر وائی ، پی ٹی وی پر حملہ اور بائی پولر ڈس آرڈر
اے آر وائی چینل کے دفتر پر بعض ’شرپسندوں‘ کے حملے کے بعد کراچی کا سیاسی منظرنامہ تیزی سے بدلا مگر سوشلستان میں لوگوں نے حیرت سے پوچھا کہ جب پی ٹی وی پر حملہ کیا گیا تو ایکشن لینے والوں نے اتنی سرگرمی کیوں نہیں دکھائی؟
اور یہ سوال پوچھنے والا کوئی اور نہیں بلکہ <link type="page"><caption> مریم نواز شریف</caption><url href="https://twitter.com/MaryamNSharif/status/768126861234802688" platform="highweb"/></link> تھیں جنہوں نے عمران خان کی دھرنے کے دوران تقریر کی ویڈیو لگا کر سوال کیا کہ ’کیا یہ پاکستان مخالف تقریر نہیں تھی؟ کیا یہ غداری نہیں تھی؟ انھیں کون تحفظ دے رہا ہے؟‘
انھوں نے<link type="page"><caption> مزید لکھا</caption><url href="https://twitter.com/MaryamNSharif/status/768128415681609729" platform="highweb"/></link> ’پاکستان ٹیلی ویژن پر حملہ زیادہ سنگین تھا اور غداری کے زمرے میں آتا تھا اور ہمارے میڈیا کا ایک حصہ اس پر خوشی منا رہا تھا۔ مگر وہ ایک غلط روش کی جانب قدم تھا۔‘
نادیہ مرزا نے ٹویٹ کی کہ ’میڈیا پر حملے میں ملوث افراد ضرور گرفتار کریں مگر ایک حملہ پی ٹی وی پر بھی ہوا تھا کتنے رہنما گرفتار ہوئے تھے پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کے؟‘
ہدیٰ شاہ نے لکھا کہ ’طاہرالقادری اور الطاف حسین کی تقاریر میں کوئی فرق نہیں صرف اتنا کہ قادری سویلین اور الطاف فوجی سٹیبلشمنٹ کے خلاف بولا۔‘
محسن حجازی نے لکھا ’ایم کیو ایم صرف سات سال پہلے اسٹیبلشمنٹ کی اتحادی تھی، آج زیرِ عتاب ہے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ ہی بائی پولر ڈس آرڈر کی مریض معلوم ہوتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہImran Khan
سیاسی مکالمہ ٹوئٹر پر
چونکہ ٹی وی چینلز کا نشریاتی پیٹ ایم کیو ایم اور کراچی کے سیاسی منظرنامے سے پُر ہے اس لیے ہمارے سیاسی رہنما ان دنوں ٹوئٹر پر ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان سوات موٹروے کے افتتاح کے موقع پر لی گئی<link type="page"><caption> تصویر ٹویٹ کی </caption><url href="https://twitter.com/ImranKhanPTI/status/768861864348512256" platform="highweb"/></link>کہ ’یہ موٹروے سوات میں سیاحت اور ترقی کا راستہ کھولے گی۔‘
چونکہ پاکستان تحریکِ انصاف سڑکوں، پلوں اور میٹرو کے حکومتی منصوبوں کے بارے میں شدید تنقید کر چکی ہے اس لیے وفاقی وزیر احسن اقبال نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عمران خان کو<link type="page"><caption> ٹیگ کر کے لکھا</caption><url href="https://twitter.com/betterpakistan/status/768871597260283904" platform="highweb"/></link> ’امید ہے کہ تمام سکولوں اور ہسپتالوں کے مسائل حل ہو چکے ہوں گے۔ اسی لیے کہتے ہیں پہلے تولو پھر بولو کیونکہ کسی بھی وقت آپ کے اپنے کہے ہوئے الفاظ آپ کے گلے پڑ سکتے ہیں۔‘
کسے فالو کریں؟
دنیا میں لاکھوں ایسے افراد ہیں جو روزانہ بھوک کا شکار ہوتے ہیں جبکہ دوسری جانب ریستوران اور عام شہری بڑی تعداد میں خوراک ضائع کرتے ہیں۔
رابن ہُڈ آرمی ایک ایسی ہی رضاکارنہ تحریک ہے جو ریستورانوں سے اضافی کھانا لے کر اسے ضروت مند افراد تک پہنچاتی ہے۔
اس تحریک کا آغاز انڈیا سے کیا گیا جو اب انڈیا کے 16 شہروں پاکستان کے تین شہروں لاہور، اسلام آباد اور کراچی جبکہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ تک پھیل چکا ہے۔ آپ بھی ان کی <link type="page"><caption> ویب سائٹ</caption><url href="http://robinhoodarmy.com/" platform="highweb"/></link> پر جا کر یا ان کے <link type="page"><caption> فیس بُک پیج </caption><url href="https://www.facebook.com/robinhoodarmy" platform="highweb"/></link>پر جا کر اس میں حصہ لے سکتے ہیں۔
اس ہفتے کی تصاویر
فرانس میں برقینی کے خلاف قوانین دنیا بھر میں موضؤعِ بحث ہیں جس میں فرانس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہVINTAGENEWS
سابق فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کے بیان پر کہ برقینی کو ’اشتعال انگیزی‘ قرار دیا جس پر معروف مصنفہ جے کے رولنگ نے لکھا ’عورت اپنے جسم کو ڈھانپے یا نہ ڈھانپے ہمیں لگتا ایسے ہے کہ ہر وقت ’اکسا رہی ہوتی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہKHALIDALBAIH







