انڈیا نے ایک ساتھ 20 سٹیلائٹ خلا میں روانہ کر دیے

یہ خلائی گاڑی مقامی وقت کے مطابق صبح تقریبا ساڑھے نو بجے آندھر پردیش کے سری ہریکوٹا سے لانچ کی گئي

،تصویر کا ذریعہISRO

،تصویر کا کیپشنیہ خلائی گاڑی مقامی وقت کے مطابق صبح تقریبا ساڑھے نو بجے آندھر پردیش کے سری ہریکوٹا سے لانچ کی گئي

انڈیا کے خلائی تحقیقاتی ادارے اسرو نے بدھ کی صبح ایک ساتھ 20 مصنوعی سیاروں کو خلا میں بھیجنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

یہ مصنوعی سیارے پی ایس ایل وی سی-34 راکٹ کی مدد سے خلا میں بھیجے گئے۔

یہ پہلا موقع ہے جب انڈیا نے ایک ساتھ 20 مصنوعی سیاروں کو خلا میں بھیجا ہے۔ اس سے قبل امریکہ اور روس کو ہی یہ امتیاز حاصل تھا۔

یہ خلائی گاڑی مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً ساڑھے نو بجے آندھر پردیش کے سری ہریکوٹا سے لانچ کی گئي۔

لانچ کے بعد اسرو کے چیئرمین ایس کرن کمار نے کہا کہ پی ایس ایل وی سی-34 نے اپنا کام پورا کردیا۔

لانچ کے بعد اسرو کے چیئرمین ایس کرن کمار نے کہا کہ پی ایس ایل وی سی-34 نے اپنا کام پورا کردیا

،تصویر کا ذریعہISRO

،تصویر کا کیپشنلانچ کے بعد اسرو کے چیئرمین ایس کرن کمار نے کہا کہ پی ایس ایل وی سی-34 نے اپنا کام پورا کردیا

سائنسی امور کے صحافی پلّو باگلا کے مطابق جو مصنوعی سیارے خلا میں بھیجے گئے ہیں ان میں بھارت کے تین اور 17 غیر ملکی سیٹلائٹس ہیں۔

ان میں سے 13 سیٹلائٹ امریکہ کے جبکہ باقی کینیڈا، انڈونیشیا اور جرمنی کے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پی ایس ایل وی کے ذریعہ 36 ویں بار مصنوعی سیاروں کو خلا میں بھیجا گیاہے۔

اس سے پہلے اسرو نے پی ایس ایل وی کے ذریعے 2008 میں دس مصنوعی سیارے خلا میں بھیجے تھے۔

پی ایس ایل وی جن 17 غیر ملکی مصنوعی سیاروں کو خلا میں روانہ کر رہا ہے وہ تجارتی نوعیت کے ہیں اور ان سے اسرو کو آمدنی ہوگی۔

اس میں تیرہ سیٹیلائٹ امریکہ کے ہیں

،تصویر کا ذریعہISRO

،تصویر کا کیپشناس میں تیرہ سیٹیلائٹ امریکہ کے ہیں

ایک مصنوعی سیارہ معروف کمپنی گوگل کا ہے۔ یہ ایک جیولوجیکل سروے سیٹلائٹ ہے۔

امریکہ کے اتنی تعداد میں مصنوعی سیارے کو خلا میں بھیجنے سے بھارت امریکہ کے بہتر تعلقات کا اشارہ ملتا ہے۔

پی ایس ایل وی بھارت کا اپنا بنایا ہوا راکٹ ہے جو 44 میٹر لمبا ہے اور لانچ کے وقت اس کا وزن تقریباً 320 ٹن ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ اسرو نے مریخ کے مشن منگل یان اور چاند کے مشن چندریان کو بھی کامیابی کے ساتھ پی ایس ایل وی کے ذریعہ ہی خلا میں لانچ کیا تھا۔